خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 625 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 625

خطبات محمود ۶۲۵ سال ۱۹۳۸ء یہودی مؤمنوں کی مثال ایسی ہوئی جیسی دعا گنج العرش پڑھنے والوں کی بیان کی جاتی ہے۔اگر بائبل کی اس آیت میں انبیاء کا ذکر ہوتا تو اور بات تھی مگر یہاں تو مؤمنوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔انبیاء کے ساتھ اللہ تعالی کا خاص سلوک ہوتا ہے وہ ان کے لئے نشان دکھاتا ہے مگر عام مومنوں کے ساتھ ویسا نہیں ہوتا۔وہ مارے بھی جاتے ہیں، ان کو شیر بھی کھا جاتے ہیں ، پھانسی بھی پا جاتے ہیں اور صحابہ کرام کے ساتھ یہ سب باتیں گزریں تو کیا تو رات کے ماننے والے مؤمنوں میں ہی کوئی خاص خوبی تھی کہ خواہ سارے بادشاہ مل کر انہیں پھانسی دینا چاہیں کیل تک نہ گا ڑسکیں اور یا پھر یہ سمجھو کہ یہود کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ تھا کہ ان میں سے کسی ولی اللہ کو اٹھا کر پھانسی پر لٹکا دو اسی وقت لعنتی ہو جائے گا۔گویا باقی دنیا کے لئے تو لعنت اس کے اپنے افعال سے پیدا ہوتی ہے لیکن یہود کے متعلق خدا تعالیٰ کی لعنت ڈالنے کا حق دشمنانِ دین کے سپرد کر دیا گیا کی تھا۔پس یا تو یہ دونوں خلاف عقل و ایمان باتیں ماننی پڑیں گی اور یا پھر یہ ماننا پڑے گا کہ یہ دونوں امرنا قابل قبول ہیں۔ایک کو عقل نہیں مانتی اور دوسرے کو ایمان۔اور اس طرح ماننا پڑے گا کہ جیسا کہ اصل حوالہ میں ذکر ہے۔صرف وہ پھانسی پانے والا ملعون ہے جو خدا کے حکم کے مطابق پھانسی دیا جائے اور اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ ایسا گناہ کرنے والا جس سے اس کا قتل واجب ہو جائے لعنتی ہوتا ہے چونکہ خدا کی شریعت کہتی ہے کہ اسے مارڈالو اس لئے وہ لعنتی ہے۔پس یہ حوالہ واضح ہے اور اس میں صرف نبوت کے مدعیوں کا ہی ذکر نہیں بلکہ ہر مجرم کا ذکر ہے۔حضرت موسی اصل شریعت لانے والے تھے باقی نبی ان کے تابع تھے اس لئے باقی بھی کی یہی بات بیان کرتے گئے۔آہستہ آہستہ یہود میں جب یہ خیال پیدا ہوا کہ ہم خدا تعالیٰ کے جانشین ہیں تو ساتھ ہی انہیں یہ وہم بھی پیدا ہو گیا کہ جسے وہ پھانسی پر لٹکا دیں وہ ملعون ہے۔اس کے علاوہ اور حوالے بھی ہیں۔یرمیاہ باب ۱۴ آیت ۱۵ میں ہے ( جھوٹے نبیوں کی نسبت ) اُس کی لئے خدا وند یوں کہتا ہے کہ ان نبیوں کی بابت جو میرا نام لے کر نبوت کرتے ہیں جنہیں میں نے نہیں بھیجا اور جو کہتے ہیں کہ تلوار اور کال اس سرزمین پر نہ ہو گا یہ نبی تلوار اور کال سے ہلاک کئے جائیں گے۔یرمیاہ باب ۲۲ آیت ۱۵ سے آخر تک جھوٹے نبیوں کی سزا اور ان کی ناکامی کا ذکر ہے