خطبات محمود (جلد 19) — Page 614
خطبات محمود ۶۱۴ سال ۱۹۳۸ء فخر کی بات عطاء کرنی تھی۔پس یہ موقع بھی اگر حضرت ابو بکر کو ہی مل جاتا تو حضرت طلحہ کیا کہتے۔پھر خیبر کے دن حضرت علی کو موقع ملا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج میں اسے موقع دوں گا جو خدا سے محبت کرتا ہے اور جس سے خدا تعالیٰ محبت کرتا ہے اور تلوار اس کے سپرد کروں گا جسے خدا تعالیٰ نے فضیلت دی ہے۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میں اس مجلس میں موجود تھا اور اپنا سر اونچا کرتا تھا کہ شاید رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ لیں اور مجھے دیدیں۔مگر آپ دیکھتے اور چپ رہتے میں پھر سر اونچا کرتا اور آپ پھر دیکھتے اور چپ رہتے حتی کہ علی آئے اُن کی آنکھیں سخت دُکھتی تھیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔علی ! آگے آؤ۔وہ آپ کے پاس پہنچے تو آپ نے لعاب دہن اُن کی آنکھوں پر لگایا اور فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری آنکھوں کو شفاء دے، یہ تلوار لو جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے سپرد کی ہے یہ اب اگر کوئی کہے کہ یہ موقع نہ تو حضرت ابو بکر کو ملا اور نہ حضرت عمرؓ کو اس لئے اللہ تعالیٰ ان کی سے محبت نہیں کرتا تو یہ درست نہیں۔حضرت علی کو یہ موقع نہ ملتا تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جا کر کیا کہتے۔حضرت ابو بکر ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان اور حضرت طلحہ تو اپنی خدمات پیش کر دیتے مگر حضرت علی کیا کرتے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی موقع دیا۔اسی طرح حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کو بھی کئی مواقع ملے بلکہ حضرت عمرؓ کو پہلے دن ہی موقع ملا جب وہ مسلمان ہوئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مکان کے اندر تشریف فرما تھے۔صحابہ" بھی پاس تھے۔دروازہ بند تھا۔آپ نے آکر کہا دروازہ کھولو۔صحابہ نے کہا کہ عمر کی آواز ہے مت کھولو مگر حضرت حمزہ پہرے پر تھے انہوں نے کہا، عمر کی ایسی تیسی آئے تو سہی میں اس کا سر نہ پھوڑ دوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دروازہ کھول دو۔دروازہ کھلا اور حضرت عمرؓ اندر داخل ہوئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر ا تم کبھی ہمارا پیچھا چھوڑو گے بھی یا نہیں؟ ہم الگ مجلسوں میں بیٹھتے ہیں تم وہاں بھی ہم کو دق کرتے ہو۔حضرت عمر رو پڑے اور عرض کیا کی يَا رَسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تو بیعت کرنے آیا ہوں۔یہ سن کر آپ نے نعرہ تکبیر بلند کیا تج اور سب صحابہؓ نے بھی سکے صحابہ بیان کرتے ہیں کہ وہ پہلا نعرہ تکبیر تھا جو مکہ میں بلند کیا گیا۔حضرت عمرؓ نے کہا یا رسول اللہ ! چلیے کعبہ میں نماز پڑھیں۔حضرت حمزہ کو ساتھ لیا اور کی ย