خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 568 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 568

خطبات محمود ۵۶۸ سال ۱۹۳۸ء ان باتوں کو بھی لے آتے ہیں جن سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عقائد کی تردید ہوتی کی ہے۔مولوی ابوالعطاء الگ رہے اگر میں بھی کوئی مضمون بھیجوں اور الفضل والوں کو معلوم ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کوئی نص صریح اس کے خلاف ہے تو ان کا فرض ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں میں سے وہ حوالہ نکال کر مجھے بھیج دیں اور کہیں کہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ ارشاد ہے اور آپ کا مضمون یہ ہے۔اب کیا کیا جائے ؟ اس حوالہ کو دیکھنے کے بعد بھی اگر میں یہ کہوں کہ مضمون بیشک شائع کر دیا جائے اس کی حوالہ کا وہ مطلب نہیں جو تم نے سمجھا تو بیشک وہ مضمون شائع کر دیں۔اس صورت میں وہ خدا تعالیٰ کے سامنے بری ہو جائیں گے اور اسے کہ سکیں گے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی کتابوں مین سے ایک حوالہ نکال کر انہیں بتا دیا تھا۔پس اس کی ذمہ داری ہم پر نہیں ان پر ہے۔ایسی حالت میں اگر اس حوالہ کے معنے کرنے میں میں غلطی کرتا ہوں تو میں ذمہ دار ہوں گا وہ نہیں ہوں گے لیکن اگر انہیں میرے مضمون کے خلاف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ کی والسلام کی کوئی نص صریح معلوم ہو اور وہ چپ کر کے بیٹھے رہیں اور مضمون شائع کر دیں تو میں بھی مجرم ہوں گا اور وہ بھی مجرم ہوں گے کیونکہ انہوں نے میری غفلت کو دور نہ کیا اور میرے علم میں وہ بات نہ لائے جو ان کے علم میں تھی۔آخر یہ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ اسی اخبار میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نصوص چھپتی ہیں۔ایسی نصوص جو بالکل واضح ہیں اور جن سے کی علی وجہ البصیرت یہ امر ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام شہید کئے گئے تھے لیکن دو مہینہ کا وقفہ دے کر اخبار والے ایک اور مضمون چھاپ دیتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات کے صریح خلاف ہے۔اگر یہ طریق ہمارے سلسلہ میں جاری ہو جائے تو وہ فتنے جنہوں نے صدیوں کے بعد پیدا ہونا ہے آج ہی اُٹھنے شروع ہو جائیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تمام کتابیں پارہ پارہ ہو کر رہ جائیں اور جیسے یہود کے متعلق اللہ تعالیٰ کی فرماتا ہے تجعلونه قراطيس A کہ تم نے خدا تعالیٰ کی کتاب کو ورق ورق کر دیا۔ویسے ہی آدمی ہم میں بھی پیدا ہو جائیں۔ہم لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں ایک لمبا عرصہ رہے اور ہم آپ کے پاس بیٹھنے والے ہیں۔میں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام