خطبات محمود (جلد 19) — Page 567
خطبات محمود ۵۶۷ سال ۱۹۳۸ء کے قریب ترین عہد میں غلط راستہ پر جانے دے۔یقیناً اگر کوئی شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کرے گا جو صحیح نہیں ہوگی تو خدا تعالیٰ دو اور صحابیوں کو کھڑا کر دے گا جو صحیح بات بیان کر کے اس کی غلطی کو واضح کر دیں گے۔پھر مجھے ”الفضل“ پر بھی تعجب آتا ہے’الفضل‘سلسلہ کا آرگن ہے اور ”الفضل“ کے ایڈیٹر گو عالم نہ ہوں مگر خدا تعالیٰ نے ان کو دماغ دیا ہوا ہے۔کیا اُن کا یہ فرض نہیں تھا کہ وہ اس کی مسئلہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نصوص صریحہ پیش ہو جانے کے بعد کسی شخص کا مضمون نہ لیں۔چاہے وہ کتنا بڑا عالم کیوں نہ ہو’الفضل“ کے ۲۶ جون کے پرچہ میں نصوص صریحہ کے ساتھ یہ بات ثابت کی جاچکی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام قتل بچی کے قائل تھے مگر اُن نصوص کے شائع ہونے کے دو ماہ بعد ایڈیٹر اٹھتا ہے اور ایک اور مضمون شائع کر دیتا ہے جو صرا حنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کے خلاف ہے۔محض اس لئے کہ وہ مولوی ابو العطاء صاحب کا ہے جو سلسلہ کے نوجوان علماء میں سے سابقون میں نظر آ رہے ہیں۔حالانکہ مولوی ابو العطاء کیا اگر اُس مضمون پر مولوی سید سرور شاہ صاحب یا میر محمد اسحاق صاحب یا مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کا نام بھی لکھا ہوا ہوتا تو الفضل والوں کا فرض تھا کہ وہ کہتے تم سب شاگر داور تابع ہو اپنے آقا کے۔جب تمہارا آقا اور مطاع یہ کہتا ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام شہید کئے گئے تھے تو تمہارا کیا حق ہے کہ اس کے خلاف 66 لب کشائی کرو۔الفضل‘ سلسلہ کا اخبار ہے۔وہ اس لئے جاری نہیں کہ اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی باتوں کی تردید کی جائے بلکہ اس لئے جاری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کی تعلیم اس کے ذریعہ دُنیا میں پھیلائی جائے اور گو یہ ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کو دُنیا میں پھیلائے مگر جو شخص اسی بات کی تنخواہ لیتا ہو اس کی تو یہ انتہائی بددیانتی ہوگی اگر وہ دیدہ و دانستہ ایسا کرے اور سلسلہ کا کارکن ہوتا ہو ا کام وہ کرے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کو ر ڈ کرنے والا ہو۔ان کو تو مقر ر اس لئے کیا گیا ہے کہ وہ ان باتوں کو شائع رڈ کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کی اشاعت کرنے والی ہوں مگر وہ اپنے اخبار میں