خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 558 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 558

خطبات محمود ۵۵۸ سال ۱۹۳۸ء قرآن و حدیث میں موجود ہی تھے مگر باوجود حضرت عائشہ اور دوسرے مجتہد صحابہ کے روکنے کے جب لوگ اس بارہ میں غلط عقیدہ پر مصر رہے تو نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اب جو شخص بھی دعوی نبوت کرے گا وہ دجال اور کذاب ہوگا اور اس کا یہ نقصان ہو ا کہ جب خدا تعالیٰ کا ایک نبی آیا تو ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ اس غلط عقیدہ کی وجہ سے اس کو قبول کرنے سے محروم رہ گئے۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے غلط محبت اختیار نہ کی جاتی ، اگر غلط اصول لوگوں کے دلوں میں قائم نہ کر دئیے جاتے تو یقیناً وہ ہدایت پا جاتے مگر چونکہ ان کے کانوں میں كَذَّابُونَ، دَجَّالُوْنَ، كَذَّابُونَ، دَجَّالُونَ کے الفاظ گونج رہے تھے۔اس لئے جب خدا تعالیٰ کا ایک نبی آیا تو انہوں نے اسے رڈ کر دیا اور اس طرح وہ خود کذاب اور دجال بن گئے اور بجائے اس کے کہ کذابون دجالون کے الفاظ انہیں کسی کا ذب مدعی نبوت پر ایمان لانے سے بچاتے یہی الفاظ ان کے لئے ایک سچے مدعی کو کذاب اور دجال قرار دینے کے محرک ہو گئے اس میں کوئی محبہ نہیں کہ یہ الفاظ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی فرمائے تھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اور بھی تو الفاظ ہیں ان سب کو اکٹھا اپنے سامنے رکھ کر موازنہ کرنا چاہئے تھا اور دیکھنا چاہئے تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام احادیث سے بحیثیت مجموعی کیا نتیجہ نکلتا ہے مگر انہوں نے ایک حدیث کو لے لیا اور اس پر اتنا زور دینا شروع کر دیا کہ وہ لاکھوں کی گمراہی کا موجب ہو گئے۔حدیثوں میں آتا ہے ایک صحابی کہتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر چیز کو تم اس کے مقام پر رکھو کے پس مؤمن کا فرض یہ ہے کہ وہ غلو نہ کرے کیونکہ جب کبھی کسی بات میں غلو کیا جائے گا اس کا آخری نتیجہ خرابی اور گمراہی ہوگا۔اصل سچائی وہی ہوتی ہے جو خدا اور اس کا کی رسول بتا تا ہے اور کسی کا یہ ہرگز کوئی حق نہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے ایک رسول کے فیصلہ کے خلاف کوئی بات کہے یا ایک بات کو جس حد تک اس نے محدود قرار دیا ہے اس کو اس حد سے آگے نکال دے۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف یہ فرمایا تھا کہ میرے بعد چھیں یا تھیں دنبال ہوں گے۔آپ نے یہ تو نہیں فرمایا تھا کہ میرے بعد قیامت تک جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ دجال ہو گا۔آپ نے جو کچھ فرمایا وہ یہ ہے کہ میرے بعد جھوٹے نبی بھی ہوں گے۔