خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 492

خطبات محمود ۴۹۲ سال ۱۹۳۸ء ہوتا ہے اور نفاق میں کوئی کشش نہیں ہوتی۔جس شخص کے اندر ایمان پیدا ہو جاتا ہے وہ اپنے بھائیوں کو چھوڑ دیتا ہے، اپنے عزیزوں کو چھوڑ دیتا ہے، اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ دیتا ہے، اپنے ماں باپ کو چھوڑ دیتا ہے اور اس امر کی کوئی پرواہ نہیں کرتا کہ اس قطع تعلق کا اس پر کیا اثر پڑے گا۔مگر جس کے اندر نفاق پیدا ہو جاتا ہے وہ اپنے بھائیوں اور دوسرے رشتہ داروں کو نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ وہ گناہ کی حالت میں ہوتا ہے۔میں نے یہ بات اس لئے بیان کی ہے تا کوئی شخص یہ خیال نہ کرے کہ انہوں نے پہلے بھی تو کی اپنے قرابتیوں اور دوستوں کو چھوڑا تھا پھر اب یہ کیوں چھوڑ نہیں سکتے۔میں نے بتایا ہے کہ پہلے انہوں نے اس لئے چھوڑا تھا کہ ان کے اندر ایمان کی طاقت پائی جاتی تھی مگر اب جو ان کے اندر تغیر پیدا ہوا ہے وہ نفاق کا تغیر ہے۔پس چونکہ اب ان کے اندر ایمان والی حالت نہیں ہوتی اس لئے نئے دوست ، نئی برادری اور نئے رشتہ داران کو چھوڑ نے بہت مشکل ہوتے ہیں اور کہتے ہیں اسی طرح رہنے دو۔اوپر سے ہم ملے رہتے ہیں اور اندر سے منصوبے کرتے رہیں گے۔تو فرماتا ہے۔لا تعتذ رُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ - تم عذرمت کرو بے شک کسی وقت تم مؤمن تھے مگر اب تمہیں اسلام میں سو سو کیڑے نظر آتے ہیں اور پہلے جن باتوں کو خو بیاں سمجھتے تھے انہی کو اب عیب قرار دینے لگ گئے ہو۔میں اس تغیر کی جو ایمان لانے کے بعد بعض لوگوں میں پیدا ہوتا ہے ایک وجہ بھی بتا دیتا ہوں اور گو اور بھی اس کی وجوہ ہیں مگر جو سب سے اقرب وجہ ہے اور جو میرے اس مضمون کو بالکل واضح کر دیتی ہے میں وہ بیان کر دیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ اسی سورۃ تو بہ میں فرماتا ہے۔تو كَانَ عَرَضًا قَرِيبًا وَ سَفَرًا قاصدًا لَّاتَّبَعُوكَ وَلكِن بَعُدَتْ عَلَيْهِمُ الشقة، لے اس کے ایک ظاہری معنی یہ بھی ہیں کہ چونکہ سفر لمبا تھا اس لئے تم کی جہاد میں جانے سے رُک گئے مگر اس کے باطنی معنے بھی ہیں اور وہ یہ کہ جو لوگ ایمان لائے جب اس قسم کی پیشگوئیاں سنتے ہیں کہ عنقریب اسلام تمام دنیا کو فتح کرلے گا، سب بادشاہتیں مغلوب ہو جائیں گی اور بڑے بڑے بادشاہ حلقہ بگوش اسلام بن جائیں گے، ہر طرف اسلامی پھریرا لہرائے گا، کفر پر موت آجائیگی اور فقر وفاقہ میں مبتلا رہنے والے مسلمان بڑی بڑی عزتوں کے