خطبات محمود (جلد 19) — Page 479
خطبات محمود ۴۷۹ سال ۱۹۳۸ء جب بھی دو مؤمن اکٹھے ہوں اپنے میں سے ایک کو امیر بنالیں۔ادھر دنیا کا قاعدہ بتا رہا ہے کہ یہ صیح اصل ہے ہم کسی کو اپنا حاکم یا افسر نہ بھی بنا ئیں جس کے ذہن میں جدت اور تیزی ہوگی وہ تی آپ ہی آپ ہمارا افسر بن جائے گا۔چاہے اُسے منہ سے نہ کہا جائے کہ آپ ہمارے افسر اور حاکم ہیں مر عملاً یہی ہوگا کہ دوست اُسی سے مشورہ لیں گے اور اسی کے پیچھے اپنے آپ کو چلائیں گے چاہے یہ برتری اور فوقیت عقل کی وجہ سے ہو، چاہے مال کی وجہ سے۔اگر چار پانچ دوست ہوں اور ان میں سے ایک دولت مند ہو تو گو بظاہر وہ اُس دولت مند کو کسی میٹنگ میں اپنا بادشاہ یا افسر مقرر نہیں کریں گے مگر عملاً یہی ہوگا کہ وہ اُسی دوست کے گھر میں جمع ہوں گے جو انہیں کی کھانا کھلائے یا چائے پلائے یا مٹھائی کھلائے۔اب یہ برتری مال کی وجہ سے ہوگی کسی طاقت کی کی وجہ سے نہیں ہوگی۔اسی طرح چار پانچ اور دوست ہوتے ہیں اور اُن میں سے ایک پہلوان ہوتا ہے دوسرے جانتے ہیں کہ اگر اس نے کسی کو ایک تھپڑ بھی مارا تو وہ کئی گز تک لڑھکتا چلا جائے گا۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ باقی کمز ورلڈ کے اُس کے ارد گرد اکٹھے رہتے ہیں تا اگر دوسرے لڑکے ہمیں دِق کریں تو ہم اس کی پناہ میں محفوظ رہیں۔اب وہ بادشاہ نہیں ہوتا انہوں نے کسی میٹنگ یا مجلس میں اُس کی افسری کو تسلیم کرنے کے متعلق کوئی ریزولیوشن پاس نہیں کیا ہوتا، کو ئی کمیٹی نہیں کی ہوتی مگر فطرت خود بخود بہادر انسان کی فوقیت کو تسلیم کر لیتی ہے۔اسی طرح منافقوں کو دیکھ لوقرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بھی لیڈر ہوتے ہیں ، کفار کے بھی لیڈر ہوتے ہیں حتی کہ که قرآن کریم میں آتا ہے کہ جب دوزخی دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو وہ کہیں گے یا اللہ ! ہمارے کچھ سردار بھی تھے انہیں بھی سزادی جائے اور ہم سے زیادہ دی جائے کیونکہ انہوں نے ہی ہم کو گمراہ کیا کے منافقوں کا بھی یہی حال ہے۔عام طور پر کہا جاتا ہے کہ منافقوں کا لیڈر عبد اللہ بن اُبی بن سلول تھا۔اب اس کے یہ معنے نہیں کہ انہوں نے اس کی لیڈری کے متعلق کوئی کی ریز ولیوشن پاس کیا تھایا کو ئی کمیٹی ہوئی تھی جس میں یہ پاس ہوا تھا کہ عبداللہ بن اُبی بن سلول کو اپنا لیڈر منتخب کیا جائے بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ چونکہ منافقت میں دوسروں سے بڑھا ہوا تھا اس لئے خود بخود منافقوں کا لیڈر بن گیا۔چوروں کا لیڈر بڑا چور ہوتا ہے ، ڈاکوؤں کا لیڈر بڑا ڈا کو ہوتا ہے، بدکاروں کا لیڈر بڑا بدکار ہوتا ہے، سپاہیوں کا لیڈر بڑا لڑنے والا ہوتا ہے،