خطبات محمود (جلد 19) — Page 468
خطبات محمود ۴۶۸ سال ۱۹۳۸ اس کے علاوہ ایک اور واقعہ بھی ہے جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن مریم اور خاندان کے بعض اور افراد بھی شامل تھے۔یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر زنا کے الزام کا واقعہ ہے۔قارون کے واقعہ اور اس واقعہ کو اگر اکٹھا ہی سمجھ لیا جائے تو یہ تین واقعات منافقوں کی کے ہیں اور اگر یہ علیحدہ ہے تو چار ہیں لیکن اگر اسے علیحدہ نہ بھی سمجھا جائے تو بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف کم سے کم تین مرتبہ منافقوں نے بغاوت کی ہے۔ان کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام آئے ہیں اور ان کے بارہ حواریوں میں سے ایک جوسب سے زیادہ آپ کا مقرب تھا۔اور جس کا دعویٰ تھا کہ خواہ ساری دنیا چھوڑ دے میں آپ کو نہیں چھوڑوں گا اور جوان کے ساتھ ایک تھالی میں کھانا کھایا کرتا تھا آخر اسی نے آپ کو پکڑوا دیا۔واقعات اس قسم کے ہیں کہ اگر اس وقت آپ نہ پکڑے جاتے تو شاید بچ جاتے۔حضرت عیسی علیہ السلام کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ پتہ لگ گیا تھا وہ چھپ گئے تھے اور بھیس بدل لیا تھا جس سے کوئی پہچان نہیں سکتا تھا۔یہودا اسکر یوطی کو چونکہ علم تھا کہ کیا بھیس بدلا ہوا ہے اس نے سرکاری افسروں سے ساز باز کی اور کہا کہ میں جا کر جسے پکڑ کر پیار کروں گا سمجھنا وہی عیسی ہے۔چنانچہ وہ گیا اور جا کر آپ کو چوما۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی الہام سے علم ہو چکا تھا اور آپ نے فرمایا کہ میں نے جو بات کہی تھی وہ پوری ہوگئی۔میں نے کہا تھا کہ ” جس نے طباق میں ہاتھ ڈالا ہے وہی مجھے پکڑوائے گا۔اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ آیا۔آپ کا حال بھی ظاہر ہے۔ایک دو نہیں بلکہ ایک زمانہ ایسا آیا کہ آپ کو ماننے والوں کا قریباً تیسرا حصہ منافق ثابت ہوا۔اُحد کی جنگ کے موقع پر جتنے مسلمان تھے سب کے سب شامل ہوئے حتی کہ بچے بھی شریک ہو گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ پندرہ سال سے کم عمر کے بچے واپس چلے جائیں۔ایک لڑکے نے کہا یا رَسُول اللہ ! میں تیر بہت اچھا چلانا جانتا ہوں دوسروں نے بھی کہا کہ واقعی اس کا نشانہ بہت اچھا ہے خطا نہیں جاتا۔آپ نے فرمایا اسے رہنے دو مگر اس کا مد مقابل ایک اور ساتھی تھا وہ بھی پندرہ سال سے کم عمر کا تھا۔وہ رونے لگ گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی سے شاید اس کا کوئی رشتہ تھا یا کوئی رضاعی رشتہ ہوگا اس نے ان سے جا کر کہا کہ