خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 415

خطبات محمود ۴۱۵ سال ۱۹۳۸ کہاں سے نظر آ گیا ہم نے جس سے وعدہ کیا تھا وہ سمجھتا تھا کہ ہم نے کیا وعدہ کیا ہے اور ہم بھی اپنے دلوں میں سمجھتے تھے کہ ہم نے کیا وعدہ کیا ہے چنانچہ حکومت کی چٹھی موجود ہے جس میں صاف طور پر لکھا ہوا ہے کہ ہماری یہ مراد نہیں کہ ملزم کو دفاع سے محروم کر دیا جائے۔جماعت اگر بحیثیت جماعت مدد نہ دے اور انفرادی طور پر ملزم کے ہم وطن یا دوست وغیرہ کوئی چندہ دینا چاہیں تو ہم ان کو نہیں روک سکتے وہ بے شک چندہ کر لیں۔پس جن سے ہم نے کہا تھا کہ ہم جماعتی طور پر کوئی مدد نہیں کریں گے۔ان پر واضح کر کے اور ان سے پوچھ کر ہم نے میاں عزیز احمد صاحب کے دوستوں اور ہم وطنوں کو چندہ کرنے کی اجازت دی اور مزید احتیاط یہ کی کہ نہ خود چندہ دیا نہ ناظروں کو دینے دیا تو یہ تیسرا فریق اعتراض کرنے والا کون ہے۔نہ جس سے ہمارا کوئی وعدہ تھا اور نہ اسے ہمارے وعدہ کی حقیقت معلوم ہے۔پنجابی مثل ہے تو کون ؟ میں خواہ مخواہ۔یہی مثال احرار اور مصریوں پر چسپاں ہوتی ہے۔ہم ان سے کب کہنے گئے تھے کہ ہم میاں عزیز احمد صاحب کی مدد نہیں کریں گے۔اگر اعتراض ہو سکتا ہے تو حکومت کو۔اور اس حکومت کا اجازت نامہ ہمارے پاس اس بارے میں موجود ہے۔ان احراریوں کو تو کوئی حق ہی نہیں کہ وہ ایسا اعتراض کریں یہ تو ہمیشہ ایسے مواقع پر قومی طور پر ملزموں بلکہ مجرموں تک کی امداد کیا کرتے ہیں۔پس اس معاملہ میں احرار کا کوئی حق نہیں کہ وہ دخل دیں۔یہ ہمارا اور گورنمنٹ کا ایک باہمی معاملہ تھا گورنمنٹ نے ہم سے ایک خواہش کی اور ہم نے اسے تسلیم کر لیا اور گو ہم سے اس کی کے مطالبہ کو تسلیم کرنے میں غلطی ہوئی مگر خیر ہم بھول گئے اور ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ گورنمنٹ کی کے اس افسر نے جس نے ہم سے یہ مطالبہ کیا تھا ہم سے دھو کا کیا۔اس نے بھی نیک نیتی سے یہ مطالبہ کیا گوافسوس ہے کہ بعد میں حکومت کے بعض لوکل نمائندوں کی طرف سے فرض شناسی میں کوتا ہی ہوئی۔مگر بہر حال جس نے وعدہ کیا تھا اس نے اپنے وعدہ کو پورا کر دیا۔جس بات پر اعتراض کیا جاتا ہے وہ اسی افسر سے پوچھ کر کی گئی جس نے وعدہ لیا تھا۔اب یہ درمیان میں دخل دینے والا تیسرا فریق کون ہے۔اس کو تو ہم منہ لگانے کے قابل ہی نہیں سمجھتے اگر اعتراض ہو سکتا تھا تو کی حکومت کو مگر اس نے نہ صرف یہ کہ اعتراض نہیں کیا بلکہ تحریری طور پر لکھا کہ ہمارا ہرگز یہ منشاء نہیں کی