خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 409

خطبات محمود ۴۰۹ سال ۱۹۳۸ء قانون اجازت دے دے۔یعنی یا تو یہ قانون کر دیا جائے کہ جو فریق مقدمہ نہیں اُس کا مقدمہ کی سماعت کے دوران میں مخالفانہ طور پر ذکر ہی نہ آئے اور یا پھر یہ قانون کر دیا جائے کہ اگر کسی فریق کا اس رنگ میں ذکر آجائے تو پھر اُس فریق کو حق ہوگا کہ وہ اپنے وکلاء کے ذریعہ مجسٹریٹ کے سامنے اپنا دفاع پیش کرے مگر موجودہ قانون نہ تو ان لوگوں کے مخالفانہ ذکر کو قطعی کی طور پر روکتا ہے جو فریق مقدمہ نہ ہوں اور نہ انہیں فریق مقدمہ کے طور پر پیش ہونے کی اجازت دیتا ہے۔جیسے مولوی عطاء اللہ صاحب پر جب مقدمہ ہوا تو ہماری جماعت پر اس مقدمہ کے دوران خطرناک حملے کئے گئے۔ہم نے گورنمنٹ کو بہتیرا کہا کہ آخر یہ مقدمہ ہم پر تو نہیں چل رہا کہ ہمارے مخالفانہ ذکر کو گورنمنٹ مسلوں پر لا رہی ہے اس ذکر کو روک لینا چاہئے۔نہیں تو ہمیں اپنے دفاع کو پیش کرنے کا موقع ملنا چاہئے مگر وہ یہی کہتی کہ کوئی قانون نہیں ،کوئی قانون نہیں۔پس آئندہ یا تو قانون کی یہ اصلاح کی جائے کہ ایسے لوگ جو فریق مقدمہ نہیں ان کی کا مخالفانہ ذکر قطعاً درمیان میں نہ آئے اور یا پھر دوسرے کو اجازت دی جائے کہ وہ اپنا وکیل لائے اور کہے کہ مجھ پر جب الزام لگاتے ہو تو میرا جواب بھی سن لو۔اگر یہ دونوں امر نہ ہوں تو جس قدر مذہبی قتل ہندوستان میں ہوں گے ان میں ملزم کی قوم اس بات پر مجبور ہوگی کہ ملزم کا ساتھ دے اور اس کی مدد کرے کیونکہ اس کے ساتھ شامل ہوئے بغیر وہ اپنا دفاع پیش نہیں کر سکتی۔آخر ایک قوم کی عزت پر جب حملے کئے جائیں اور بلا وجہ اسے لوگوں کی نظروں میں گرانے کی کوشش کی جائے تو اپنی عزت اور وقار قائم رکھنے اور عائد کردہ الزامات سے اپنی بریت ثابت کرنے کے لئے کیا طریق عمل اختیار کرے؟ اس کے لئے سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں کہ وہ ملزم کے ساتھ مل جائے کیونکہ وہ اس کے ساتھ شامل ہوئے بغیر دفاع نہیں کر سکتی۔وہ قانون جس کا فرض ہے کہ وہ مظلوم کی مدد کرے وہ ان حالات میں ظالم کی طرف چلا جاتا ہے اور مقدمہ کی صورت اس طرح بدل جاتی ہے کہ منفرد فعل کو سازش قرار دے دیا جاتا ہے اور جو بالکل بری الذمہ قوم ہوتی ہے اس پر بلا وجہ حملے شروع کر دیئے جاتے ہیں اور اسے اپنی براءت پیش کرنے کا کوئی موقع نہیں دیا جاتا اور وہ اس طرح الگ بیٹھی رہتی ہے جیسے اس پر کوئی کی