خطبات محمود (جلد 19) — Page 407
خطبات محمود ۴۰۷ سال ۱۹۳۸ء کا بیان کیونکر قابلِ تسلیم ہو سکتا ہے تو اس قسم کے واقعات ہمارے ملک میں ہوتے رہتے ہیں لوگ جھوٹ بولتے ہیں اور اس طرح فریق مخالف کو پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں۔یا مرنے والا بعض آدمیوں کے جھوٹ موٹ کے نام لے دیتا ہے اور اس طرح انہیں پکڑوانے کی کوشش کی جاتی ہے اور یا پھر پولیس پر یہ زور دیا جاتا ہے کہ یہ منفر د فعل نہیں بلکہ کسی گہری سازش کا نتیجہ ہے۔اس واقعہ میں بھی سنا گیا ہے ایسا ہی ہوا اور بیان کیا جاتا ہے کہ میاں فخر الدین صاحب۔نے مرتے وقت میرا نام بھی لیا۔سید ولی اللہ شاہ صاحب کا نام بھی لیا اور اسی طرح اور کئی آدمیوں کا نام لیا اور کہا کہ یہ مجھے مروانے والے ہیں۔اس طرح ان کی پارٹی نے بھی ان مقدمات میں یہ کوشش کی کہ یہ واقعہ قتل سازش کا نتیجہ ثابت ہو۔اب قانون انگریزی کی رو سے ایسے فوجداری مقدمات میں ایک طرف گورنمنٹ ہوتی ہے اور دوسری طرف مدعا علیہ اور اگر کسی دوسرے نے کوئی بات اپنی بریت کے لئے پیش کرنیکی ہو تو اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ یا گورنمنٹ کو قابو کرے یا مد علیہ کی امداد کرے اور اس کے دفاع کے ساتھ اپنا دفاع ملا کر پیش کرے۔اس کے علاوہ اور کوئی صورت نہیں ہوتی۔پس اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ یا تو مد عاعلیہ سے دوستانہ تعلقات پیدا کرے اور اس ذریعہ سے اپنا ڈیفنس پیش کرے یا حکومت سے دوستانہ تعلقات پیدا کرے۔یہاں جب مقدمہ شروع ہوا تو چونکہ گورنمنٹ کی طرف سے یہ مقدمہ چلایا گیا تھا اس لئے کی لازمی طور پر دوسری پارٹی جو اصل مدعی تھی اس نے حکومت کی مقامی مشینری سے وابستگی اختیار کی اور چونکہ بعض مقامی پولیس افسر ہمارے دشمن تھے اس لئے خود گورنمنٹ کی طرف سے یہ سوال اٹھایا جانے لگا کہ اس میں سازش تھی اور ایسے کئی امور مسل پر آگئے جن کا سلسلہ پر بُرا اثر پڑتا تھا اور کہا جانے لگا کہ صرف یہی قتل نہیں بلکہ اور لوگ بھی قتل کی اس سازش میں شریک ہیں۔اب جبکہ حکومت کی طرف سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی تھی کہ یہ قتل سازش کا ایک نتیجہ ہے، ہماری جماعت کے لئے اپنی بریت کی صرف ایک ہی صورت تھی اور وہ یہ تھی کہ وہ میاں عزیز احمد صاحب کے ڈیفنس میں ایسی باتیں مسل پر لاتی جن سے ان امور کی تردید ہوتی کی لیکن چونکہ ہم عہد کر چکے تھے کہ ہم میاں عزیز احمد صاحب کی جماعتی طور پر کوئی مدد نہیں کریں گے کی