خطبات محمود (جلد 19) — Page 39
خطبات محمود ۳۹ سال ۱۹۳۸ء زمانہ میں فتح ہوئے اور ان کا فائدہ زیادہ تر اُن لوگوں نے حاصل کیا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر میں ابو جہل اور ابوسفیان کے لشکر میں شامل ہو کر مسلمانوں کا مقابلہ کرتے رہے تھے۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری عمر میں ایمان لائے اور فتوحات کے زمانہ میں تھوڑے سے عرصہ کیلئے لڑائیوں میں بھی شامل ہوئے اور پھر فتوحات میں حصہ دار بن کر ہر قسم کی راحت و آرام حاصل کرنے والے ہو گئے۔اور وہ جنہوں نے قربانیاں کی تھیں اور جو آسمان کی سے اس بہشت کو کھینچ کر لائے تھے وہ اپنے خدا کے پاس مدتوں پہلے جاچکے تھے یا ان چیزوں سے مستغنی ہو کر اپنے رب کی یاد میں بیٹھے تھے یا خدمت خلق میں مشغول تھے۔کیا عجیب نظارہ ہمیں نظر آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد معاویہ ہزاروں مسلمانوں کے درمیان کھڑے ہوتے ہیں وہی معاویہ جو فتح مکہ تک برابر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لڑتے رہے تھے اور کھڑے ہو کر مسلمانوں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے مسلمانو! تم جانتے ہو ہمارا خاندان عرب کے رؤساء میں سے ہے اور ہم لوگ اشراف قریش میں سے ہیں۔پس آج مجھ سے زیادہ حکومت کا کون مستحق ہوسکتا ہے اور میرے بعد میرے بیٹے سے کون زیادہ مستحق ہو سکتا ہے ہے اُس وقت حضرت عبداللہ بن عمرؓ مسجد کے ایک کو نہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔وہ عبداللہ بن عمرؓ جن کو حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنھما کی موجودگی میں صحابہ نے خلافت کا حق دار قرار دیا تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے خواہش کی کی تھی کہ آپ اپنے بعد ان کو خلافت پر مقرر فرمائیں کیونکہ مسلمان زیادہ سہولت سے ان کے ہاتھ پر جمع ہو جائیں گے اور کسی قسم کے فتنے پیدا نہیں ہو سکیں گے لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا میں اس کی نیکی کو جانتا ہوں اور اس کے مقام کو پہچانتا ہوں لیکن یہ رسم میں نہیں ڈالنا چاہتا کہ ایک خلیفہ اپنے بعد اپنے بیٹے کو خلیفہ مقرر کر دے اور خصوصاً جبکہ اکابر صحابہ زندہ موجود ہیں اس لئے میں اس کو مشورہ میں تو شامل رکھوں گا لیکن خلافت کا امید وار قرار نہیں دوں گا۔سے یہ عبد اللہ بن عمرؓ اُس وقت مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔وہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے معاویہؓ کو یہ بات کہتے سنا تو وہ چادر جو میں نے اپنے پاؤں کے گرد لپیٹ رکھی تھی اس کے بند کھولے اور کی ارادہ کیا کہ کھڑا ہو کر کہوں کہ اے معاویہ ! اس مقام کا تجھ سے زیادہ حقدار وہ ہے جس کا باپ کی ا