خطبات محمود (جلد 19) — Page 360
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء ان کے مقدمہ کی ہائی کورٹ میں اپیل ہوئی اور شیخ بشیر احمد صاحب پیش ہوئے اور پھر پریوی کونسل کی میں اپیل ہوئی، یہ قیاس کر لیا کہ جماعت جھوٹ بولتی ہے اور ضرور اندرونی طور پر ہزاروں رو پید انہوں نے خرچ کیا ہے بلکہ دشمن تو دشمن رہے ہمارے جماعت کے بعض منافقین نے بھی جن کے متعلق ہمارے پاس رپورٹیں پہنچ چکی ہیں مگر ابھی میں نے ان کے اخراج کا اعلان نہیں کیا اپنی مجلسوں میں یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہزاروں روپیہ ان مقدمات پر جماعت نے خرچ کیا کی ہے حالانکہ جیسا کہ اعتراض کے جواب میں میں بتاؤں گا ان کا یہ تخمینہ بالکل غلط ہے۔انہوں کی نے فرض کر لیا کہ جماعت کی مدد کے بغیر یہ کام نہیں ہو سکتا تھا اور پھر خود بخود یہ نتیجہ نکال لیا کہ ضرور جماعت نے اس کی مدد کی ہے حالانکہ واقعہ بالکل اور ہے۔اس وقت میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اس قسم کی غلطیوں کے نتائج نہایت ہیبت ناک ہوتے ہیں تم واقعات کو دیکھ کر اس امر کے مجاز نہیں کہ کہہ سکو اس واقعہ کا فلاں سبب ہے۔کیونکہ ایک واقعہ کے کئی موجبات ہو سکتے ہیں۔پھر جس واقعہ کے ثبوت کے لئے گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے اسی کی طرح کسی واقعہ کا موجب بیان کرنا بھی اُس وقت تک ہمارے لئے جائز نہیں ہوسکتا جب تک اس موجب کا ثبوت ہمارے پاس مہیا نہ ہو۔تیسرا اصل یہ یاد رکھنا چاہئے کہ انسانی افعال کا اثر جو دلوں پر پڑتا ہے وہ صرف ان کے اچھے یا بُرے ہونے کی نسبت سے نہیں پڑتا بلکہ قلوب کا انفعال بعض اور متعلقہ واقعات کو مدنظر رکھ کر پیدا ہوتا ہے یعنی کسی کی چوری دیکھ کر یا اس کا ذکر دوسرے کی زبان سے سُن کر یا قتل ہوتے دیکھ کر یا اس کا ذکر دوسرے کی زبان سے سُن کر یا کسی کو غیبت کرتے دیکھ کر یا اس کا ذکر دوسرے کی زبان سے سن کر ہمارے دل پر جو اثر پیدا ہوتا ہے وہ فعل کی برائی کی نسبت سے نہیں ہوتا بلکہ قلوب میں جو اثرات پیدا ہوتے ہیں وہ اور بہت سے امور متعلقہ کے مجموعی اثر کا نتیجہ ہوتے ہیں۔بسا اوقات ایک بڑی چوری ہو گی مگر جب تم اس کا ذکر سنو گے تمہارے دل پر زیادہ برا اثر نہیں پڑے گا۔اور بسا اوقات ایک چھوٹی سی چوری ہوگی۔مگر جب تم اسے سنو گے تو تمہارا دل کی اس کی بُرائی کو بہت زیادہ محسوس کرے گا کیونکہ گو پہلی چوری بڑی تھی مگر متعلقہ امور نے اسے بڑا نہیں بنایا اور گو دوسری چوری بڑی نہیں مگر متعلقہ امور نے اسے بھیا نک بنا دیا ہے۔تو تمام افعال