خطبات محمود (جلد 19) — Page 356
خطبات محمود ۳۵۶ سال ۱۹۳۸ء لوگوں کو ہوتا رہتا ہے مگر ہر پیٹ درد ایک ہی کھانے سے نہیں ہوتا بلکہ بیسیوں کھانے ایسے ہیں جن کے کھانے سے پیٹ درد ہو جاتا ہے۔پھر بیسیوں در دیں ایسی بھی ہیں جو کھانے سے تعلق ہی نہیں رکھتیں۔کسی کو چوٹ لگ جائے تو اس سے بھی پیٹ درد ہو جائے گا۔معدہ کے اعصاب میں حدت اور تیزی پیدا ہو جائے تو اس سے بھی پیٹ درد ہو جائے گا۔تیزابی مادہ معدہ میں بڑھ جائے تو اس سے بھی پیٹ درد ہو جائے گا۔خلو معدہ سے بھی پیٹ درد ہو جاتا ہے اسی طرح اور بیسیوں اسباب ہیں جن کے نتیجہ میں پیٹ درد پیدا ہو جاتا ہے۔اب اگر کوئی سمجھے کہ پیٹ درد محض ثقیل غذاء کھانے سے ہوتا ہے اور جب کسی کے متعلق یہ سنے کہ اسے پیٹ درد ہے تو یہ کہا شروع کر دے کہ ضرور اس نے ثقیل غذاء کھائی ہوگی ، تو یہ نادانی ہوگی۔اسی طرح ہیضہ زیادہ کھانا کھانے سے بھی ہو جاتا ہے اور ہیضہ خالی معدہ رہنے سے بھی ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ہیضہ پڑا۔ایک شخص ہیضہ میں مبتلا ہو کر مر گیا۔جب اس کی نعش آئی اور جنازہ پڑھا جانے لگا تو ایک شخص بغیر اس بات کا خیال کئے کہ اس کے رشتہ داروں کو تکلیف ہوگی صفوں میں ادھر ادھر دوڑتا پھرے اور شور مچاتا پھرے کہ ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ لوگوں کی عقل کو کیا ہو گیا۔بس وہ کھانے بیٹھتے ہیں تو غذا ٹھونستے چلے جاتے ہیں اور اس بات کا کوئی خیال نہیں کرتے کہ زیادہ کھا لیا تو ہیضہ ہو جائے گا بس اُٹھتے بیٹھے سوتے جاگتے کھانے کا فکر رہتا ہے اور پھر اتنا کھائیں گے کہ حلق تک غذا ، ٹھونس لیں گے کوئی یہ خیال نہیں کرتا کہ اپنی صحت کا بھی خیال رکھا جائے۔ہم تو ہمیشہ ایک پھل کا کھاتے ہیں۔ہم تو ہمیشہ ایک پھل کا کھاتے ہیں۔ہمیں ہیضہ کیوں نہیں ہوتا۔بس وہ ادھر اُدھر دوڑتا پھرے اور بار بار یہ الفاظ کہتا جائے۔دوسرے دن پھر ایک جنازہ آیا کسی نے پوچھا کہ کس کا جنازہ ہے؟ کوئی دل جلا پاس کھڑا تھا وہ کہنے لگا یہ اُسی ایک پھل کا کھانے والے کا جنازہ ہے۔بات یہ ہوئی کہ دوسرے ہی دن اس ایک پھلکے کا شور مچانے والے کو بھی ہیضہ ہو گیا اور وہ فوت ہو گیا۔تو ہر چیز کا سبب ایک نہیں ہوتا بلکہ مختلف اسباب ہوتے ہیں کیونکہ ایک نتیجہ کئی موجبات سے نکل سکتا ہے۔تناسخ کے بارہ میں ہندوؤں نے یہی دھوکا کھایا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ دنیا میں کوئی امیر ہے