خطبات محمود (جلد 19) — Page 355
خطبات محمود ۳۵۵ سال ۱۹۳۸ء کبھی ادب کا پہلو غالب آ جاتا ہے۔جب محبت کا پہلو غالب ہو تو وہ ادب کے سمجھنے سے قاصر رہتا ہے اور جب ادب کا پہلو غالب ہو تو وہ محبت کے سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔ہم روزانہ دیکھتے ہیں ایک ہی قسم کے واقعات سے ایک کچھ نتیجہ نکالتا ہے اور دوسرا کچھ۔جلسہ سالانہ کے ایام میں میں نے دیکھا ہے بعض لوگ آنے والوں کے متعلق یہ شکایت کرتے رہتے ہیں کہ وہ کیسے ہیں۔یہاں آتے ہیں اور خلیفہ اسیح سے مصافحہ کرنے کی بھی کوشش نہیں کرتے۔معلوم ہوتا ہے کی ان کے دل میں محبت کا کوئی جذ بہ نہیں اور دوسرا شخص یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ رات دن ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں اور پھر بھی بعض لوگ حضرت خلیفہ اسیح کو چلنے نہیں دیتے دھکے پر دھکا مارتے ہیں اور یہ دونوں اپنی اپنی جگہ غصے سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔وہ بھی سچا ہوتا ہے اور یہ بھی سچا ہوتا ہے مگر ان میں سے ایک ادب کے مقام پر کھڑا ہوتا ہے اور وہ محبت کے مقام کو نہیں سمجھ سکتا۔اور دوسرا محبت کے مقام پر کھڑا ہوتا ہے اور وہ ادب کے مقام کو نہیں سمجھ سکتا۔پس میں دونوں کو مخلص سمجھتا ہوں۔در حقیقت واقعات کی کڑی کسی کے اخلاص میں فرق لاتی ہے۔مثلاً اگر ہم ایک شخص کو دیکھیں کہ اس نے کوئی بُرائی بیان کی ہے تو ہم اسی وقت یہ فیصلہ نہیں کر سکیں گے کہ اس نے محبت کے جذ بہ کی وجہ سے یہ برائی بیان کی ہے۔یا دل کے زنگ کی وجہ سے یہ برائی بیان کی ہے۔لیکن اگر ہم دیکھیں کہ ایک شخص ہمیشہ بُرائیاں بیان کرتا رہتا ہے یا ہمیشہ جماعتی کاموں سے الگ رہتا ہے۔تب ہم بے شک کہہ سکیں گے کہ اس کے دل پر زنگ لگ چکا ہے اور اس کے اخلاص میں کمی آگئی ہے۔پس اگر واقعات کا تسلسل اور ایک لمبی زنجیر بتا دے کہ فلاں شخص مجرم ہے تب ہم اسے مجرم سمجھیں گے ورنہ محض ایک بات سن کر ہم کسی کے اخلاص سے انکار نہیں کر سکتے دوسری بات جو میں بتانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ واقعات سے موجبات کو دریافت کرنا کوئی محفوظ طریق نہیں ہوتا۔ہم ایک واقعہ دیکھتے ہیں اور بغیر اس کے کہ اصل سبب ہمیں معلوم ہو ہم اس کا ایک سبب فرض کر لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب ہمارے لئے یہ جائز ہو گیا ہے کہ ہم وہ سبب ہر جگہ بیان کرتے پھریں حالانکہ ایک قسم کا نتیجہ ہمیشہ ایک ہی سبب کے نتیجہ میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ ایک ہی قسم کے نتیجہ کے مختلف اسباب ہوتے ہیں۔پیٹ درد ایک مرض ہے جو بالعموم کی