خطبات محمود (جلد 19) — Page 345
خطبات محمود ۳۴۵ ۱۹ سال ۱۹۳۸ میاں عزیز احمد صاحب مرحوم کے متعلق اپنوں کے خیالات اور معاندین کے اعتراضات فرموده ۲۴ / جون ۱۹۳۸ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - اس ہفتے مجھے پشاور کی جماعت کے ایک دوست کی طرف سے ایک خط ملا ہے جس میں انہوں نے ایک دوسرے دوست کی شکایت کی ہے کہ ایک مجلس میں بیٹھ کر انہوں نے بعض ایسی باتیں کہی ہیں جو قابلِ اعتراض ہیں اور مجھ سے خواہش کی ہے کہ میں ان باتوں کا ازالہ کر دوں۔چونکہ وہ باتیں اور ویسی ہی بعض اور باتیں ایسی ہیں جو کسی قدر تو ضیح چاہتی ہیں اور کی اس بات کی متقاضی ہیں کہ جماعت کو ان کے متعلق صحیح رائے سے آگاہ کیا جائے اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ میں جمعہ کے خطبہ میں ان امور کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر دوں :- انہوں نے دو باتیں لکھی ہیں۔ایک تو یہ ہے۔کہ اس دوست نے مجلس میں بیٹھ کر به اصرار و به تکرار یہ بات بیان کی کہ قادیان کے لوگ بے غیرت ہیں کیونکہ وہ سلسلہ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق یا ان کے خاندان کے متعلق جو بدگوئی کی جاتی ہے اسے برداشت کر لیتے ہیں۔اور انہوں نے کہا کہ اہلِ قادیان جو یہ کہتے ہیں کہ صبر سے کام لیتے ہیں یہ درست نہیں اس لئے کہ جب انہیں یا ان کے رشتہ داروں کو کوئی شخص گالی دے تو وہ صبر نہیں کرتے۔