خطبات محمود (جلد 19) — Page 313
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء تو وہ ان سے پوچھتے ہیں کہ اللہ میاں نے تم سے کیا بات کہی ہے۔اس پر وہ بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی فلاں شخص سے محبت رکھتا ہے اور اب ہمارا بھی یہ فرض قرار دیا گیا ہے کہ ہم اس سے محبت کریں۔ان کی آپس کی باتوں کی اطلاع پاکر جو اور نیچے فرشتے ہوتے ہیں وہ اپنے سے اوپر والے فرشتوں سے دریافت کرتے ہیں کہ تم کیا باتیں کر رہے ہو۔اس پر وہ انہیں بتاتے ہیں کہ فلاں کی شخص خدا تعالیٰ کا محبوب ہے اور ہمیں اس سے محبت رکھنے کا حکم ملا ہے۔یہاں تک کہ ہوتے ہوتے زمین کے فرشتوں تک بات پہنچ جاتی ہے۔فَيُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِى الْاَرْضِ سے اس شخص کی قبولیت تمام دنیا کے نیک بندوں کے دلوں میں ڈال دی جاتی ہے۔یہ در حقیقت اللہ تعالیٰ نے اس امر کی ایک مثال دی ہے کہ نیکی کے متعلق کبھی یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ وہ تھوڑی ہے۔اگر تم تھوڑی نیکی بھی کرو گے تو اللہ تعالیٰ اسے بڑھائے گا پھر اور بڑھائے گا۔یہاں تک کہ تمام دنیا میں وہ پھیل جائے گی۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تعلیم دنیا کے سامنے کی پیش کی تھی اس وقت کون کہہ سکتا تھا کہ کسی وقت تمام دنیا اس تعلیم کے آگے اپنے سر کو جھکا دے گی کی مگر کروڑوں کروڑ لوگ تو اب بھی اس تعلیم کو لفظا مانتے ہیں اور ہزار سال ایسے گزرے ہیں جبکہ مسلسل کروڑوں نفوس اس پر عمل کرتے رہے ہیں۔اسی طرح جب حضرت عیسی علیہ السلام نے کی دنیا کے سامنے تعلیم پیش کی تھی کون کہہ سکتا تھا کہ وہ ساری دنیا میں رائج ہو جائے گی، جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی تعلیم پیش کی کی تھی کون کہ سکتا تھا کہ وہ ساری دنیا میں رائج ہو جائے گی ، جب حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی تعلیم پیش کی تھی اس وقت کون کہہ سکتا تھا کہ یہ تعلیم ساری دنیا میں پھیل جائے گی ، مگر آخر یہ تمام تعلیمیں ساری دنیا میں پھیل کر رہیں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو تعلیم پیش فرمائی ہے اس کے متعلق لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ساری دنیا میں نہیں پھیل سکتی اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم تھوڑے ہیں ، ہم غریب ہیں ، ہم دنیا کی کی نگاہوں میں حقیر اور ذلیل ہیں مگر یہ ہم جانتے ہیں کہ جو چیز ہمارے پاس ہے وہ اتنی اچھی ہے کہ لوگ زیادہ دیر تک اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اگر ہم اس تعلیم کو اپنی زندگیوں کا دستور العمل بنالیں تو یقیناً دوسرے لوگ بھی اس کو اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے اور تو اور ہماری جماعت کے سب سے زیادہ مخالف ”پیغام صلح سے تعلق رکھنے والے احمد یہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے