خطبات محمود (جلد 19) — Page 310
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء راعی اور رعایا کے تعلقات کیسے ہوں ، مدعی اور مدعا علیہ کے تعلقات کیسے ہوں، اس سے تو سرا سر ہمیں ہی فائدہ پہنچتا ہے خدا کو فائدہ نہیں ہوتا۔پس ضروری ہے کہ ہم نہ اپنے فائدہ کیلئے بلکہ بنی نوع انسان کی فلاح اور بہبود کیلئے اسلامی تعلیم دنیا میں قائم کریں اور ان تمام اصول کو دنیا میں رائج کریں جنہیں اسلام نے ضروری قرار دیا ہے۔یہی وہ چیز ہے جس کی طرف میں ایک عرصہ سے جماعت کو لا رہا ہوں اور بار بار بتا رہا ہوں کہ ہماری جماعت کے قیام کی غرض اسلام کی تعلیم کو قائم کرنا ہے۔جب ہم عملی طور پر اس تعلیم کو قائم کر لیں گے اور کوئی روک ہمارے راستہ میں حائل نہیں رہے گی اس وقت ہم کہہ سکیں گے کہ ہم نے اپنے قیام کی غرض کو پورا کر دیا۔میں نے بتایا ہے کہ اگر چہ اسلامی تعلیم کے بعض حصے ایسے ہیں جو حکومت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں مگر وہ بہت ہی قلیل ہیں۔ایک کثیر حصہ اسلامی احکام کا ایسا ہے جسے ہم ہر وقت جاری کر سکتے ہیں کیونکہ خدا نے ہمیں ایک ایسی حکومت عطا کی ہے جس کے بعض افراد کی خواہ ہم کسی قدر مذمت کریں یہ ایک حقیقت ہے کہ اس نے افراد کو ان کے اپنے عقائد کے متعلق بہت کچھ آزادی دی ہوئی ہے اور وہ بہت تھوڑے معاملات میں دخل دیتی ہے۔یہ انگریزی حکومت میں ایک ایسی خوبی ہے جس کی جس قدر تعریف کی جائے کم ہے۔گو اسلام میں اس سے بہت زیادہ آزادی حاصل تھی۔چنانچہ اسلامی حکومت کے زمانہ میں یہودیوں کو اپنے قاضی اور عیسائیوں کو کی اپنے قاضی مقرر کرنے کی اجازت تھی۔جو ان کی اپنی شریعت کے مطابق ان کے جھگڑوں کا کی فیصلہ کرتے اور انہیں تنخواہیں سرکاری خزانہ سے دی جاتیں۔یعنی تنخواہ انہیں مسلمان حکومت دیتی اور وہ اپنی قوم کے جھگڑوں کا تو رات یا انجیل کے مطابق فیصلہ کرتے۔اب انگریزی حکومت کی میں یہ بات تو نہیں کہ وہ ہمارے قاضیوں کو اپنے خزانہ سے تنخواہ دے مگر بہر حال خاص دائرہ کے اندر اگر ہم اپنے لئے خود قاضی مقرر کر لیں تو حکومت اس سے روکتی نہیں اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے۔پس ہم اگر چاہیں تو اس آزادی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام کی نوے یا چی پچانوے فی صدی تعلیمات جاری کر سکتے ہیں۔اسی طرح ہم لین دین اور سودوں کے معاملات میں شریعت کے احکام جاری کر سکتے ہیں بشرطیکہ ہمارے گا ہک اور تاجر اس بات پر راضی ہوں کیونکہ حکومت ان معاملات میں دخل نہیں دیتی۔