خطبات محمود (جلد 19) — Page 224
خطبات محمود ۲۲۴ سال ۱۹۳۸ء انگریز قوم کی فتح سمجھی جائے گی کیونکہ انگریز کسی مذہب کا نام نہیں مگر اسلام مذہب کا نام ہے۔اگر وہ قائم نہیں ہوتا تو اسلام کی بہر حال شکست ہے اور فتح ان لوگوں کی ہوگی جو اپنے ملک میں ایک نیا نظام قائم کریں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسلام کیلئے ایسی فتح کے مدعی نہیں۔آپ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ پھر اسلام کو فتح حاصل ہوگی اور ہم نے یہ فتح حاصل کرنی ہے مگر ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ اس کام کی راہ میں کس قدر مشکلات حائل ہیں۔ایک ایک قدم بڑھانا ج مشکل ہو رہا ہے۔بیرونی مخالفتوں کے علاوہ جماعت میں لوگوں کے اندر وسو سے پیدا ہور ہے ہیں۔کئی منافق ہیں جو فتنے پیدا کرتے رہتے ہیں۔میں نے تحریک کی کہ لوگوں کو نبوت کے کی طریق پر لانا چاہئے اور اس پر میں یہ اعتراض سن رہا ہوں کہ کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس طریق پر نہیں چلاتے تھے حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ورثہ پر کوئی زور نہیں دیا اور جماعت میں اسے قائم نہیں کیا ، تو کیا اس کے یہ معنے ہیں کہ ہمیشہ کیلئے ورثہ کے حکم کو مٹادینا کی چاہئے۔اسی طرح داڑھی رکھنے کا مسئلہ ہے۔آپ نے فرمایا کہ ہم تو نصیحت کر دیتے ہیں جسے ہمارے ساتھ محبت ہوگی وہ خود رکھے گا۔ہماری داڑھی ہے اور جو ہمارے ساتھ محبت کرے گا وہ خود رکھ لے گا۔تو کیا اس کے یہ معنے ہیں کہ اب ہمیں داڑھی رکھنے پر کوئی زور نہیں دینا چاہئے۔میرے پیش کردہ اصول پر اگر اعتراض کیا جائے تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ سوائے ان چند عقائد کے جن کے پھیلانے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں زور دیا گیا اور کسی بات کو جاری کرنا جائز نہیں حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو اس پیشگوئی کے ماتحت کہ جماعت کی ترقی آہستہ آہستہ ہو گی ، ان باتوں کو بعد میں آنے والوں کیلئے چھوڑ دیا کیونکہ اُس وقت جماعت اتنی پھیلی ہوئی نہیں تھی اور کسی نظام کے ذریعہ اسلام کی تعلیم پر عمل کرانا مشکل تھا۔پس اگر اس اصل کو مان لیا جائے کہ جس بات کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جبر سے کام نہیں لیا ہمیں بھی زور نہیں دینا چاہئے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ جماعت احمدیہ کیلئے قرآن کریم پر عمل کرنا ضروری نہیں لیکن اگر یہ بات درست نہیں تو ماننا پڑے گا کہ ہر مناسب موقع پر اس کوشش کی جاسکتی ہے۔میرا نظریہ یہ ہے کہ ہمارا فرض ہے کہ اسلام کی تعلیم کو قائم کرنے کیلئے پوری کوشش کریں خواہ ۵۰ سال کا عرصہ کیوں نہ گزر چکا ہو اور معترض کا مقام یہ ہے کہ