خطبات محمود (جلد 19) — Page 213
خطبات محمود ۲۱۳ سال ۱۹۳۸ء تم بہت باتوں کے متعلق سوالات نہ کیا کرو کیونکہ اگر خدا ان باتوں کو بیان کرے گا تو تمہیں دُکھ پہنچے گا۔اب سوال یہ ہے کہ دُکھ کیوں پہنچے گا ؟ کیا خدا کے احکام دُکھ دینے والے ہوتے ہیں؟ خدا کا تو ہر حکم انسان کیلئے باعث رحمت ہے۔پھر اس کا کیا مطلب ہے کہ اگر خدا نے ان باتوں کو بیان کیا تو تمہیں دُکھ پہنچے گا۔بعض لوگ نادانی سے یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے بار بار سوال کیا تو خدا ناراض ہو کر تمہیں کوئی سخت حکم دے دے گا۔یعنی جب کی مثلاً یہ پوچھا کہ دو نمازیں پڑھنی چاہئیں یا پانچ ؟ تو خدا کہے گا اچھا تم نے تو یہ پوچھا ہے میں بطور سزا تمہیں کہتا ہوں کہ تم چھ نمازیں پڑھا کرو۔مگر یہ بیوقوفی کی بات ہے خدا کوئی تھکنے والا وجود نہیں کہ ایک دو سوالوں سے وہ نَعُوذُ باللہ گھبرا جائے اور اُکتا کر سخت حکم دینے شروع کر دے۔اس کا مطلب یہی ہے کہ اگر تم ہر بات مجھ سے دریافت کرو گے اور اپنی عقلوں پر زور نہیں ڈالو کی گے تو تمہارے قوائے دماغیہ کمزور اور بیکار ہو جائیں گے کیونکہ جس عضو سے ایک عرصہ تک کام نہ لیا جائے وہ بیکا ر ہو جاتا ہے۔ہاتھ سے کام نہ لیا جائے تو ہاتھ خشک ہو جاتا ہے، دماغ سے کام کی نہ لیا جائے تو دماغ کمزور ہو جاتا ہے۔پس فرماتا ہے اگر تم ہم سے پوچھو گے تو گو ہم تمہیں وہ کی بات بتادیں گے مگر پھر تم فقیہہ نہیں رہو گے بلکہ نقال بن جاؤ گے حالانکہ قوم کی ترقی کیلئے فقیہوا کا ہونا نہایت ضروری ہوتا ہے۔مگر وہ یہ بھی یاد رکھیں کہ کام تحریک جدید کے اصول پر کریں۔میں نے بارہا کہا ہے کہ اَلْاِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ " تمہارا کام بے شک یہ ہے کہ تم دشمن سے لڑ و مگر تمہارا فرض ہے کہ امام کے پیچھے ہو کر لڑو۔پس کوئی نیا پروگرام بنانا تمہارے لئے جائز نہیں۔پروگرام تحریک جدید کا ہی ہوگا اور تم تحریک جدید کے والٹیرز ہو گے۔تمہارا فرض ہو گا کہ تم اپنے ہاتھ سے کام کرو ، تم سادہ زندگی بسر کرو ، تم دین کی تعلیم دو، تم نمازوں کی پابندی کی نوجوانوں میں عادت پیدا کرو، تم تبلیغ کیلئے اوقات وقف کرو، اسی طرح باہر جو انجمنیں بنیں وہ بھی اسی رنگ میں کام کریں ،مگر موجودہ حالات میں جس طرح قادیان کی لجنہ کو میں نے باہر کی بجنات پر ایک برتری اور فوقیت دی ہوئی ہے، اسی طرح میں اعلان کرتا ہوں کہ موجودہ حالات میں عارضی طور پر سال دو سال کیلئے قادیان کی مجلس خدام الاحمدیہ کی بیرونی جماعتوں کی مجالس خدام الاحمدیہ شاخیں ہوں گی۔اور ان کا ی