خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 21

خطبات محمود ۲۱ سال ۱۹۳۸ گھی یا شہد بہہ جائے گا۔مٹی کی ایک پیالی جس کی قیمت دمڑی بھی نہیں ہوتی بلکہ کبھی تو چھوٹی پیالیاں پیسہ کی آٹھ آٹھ پکا کرتی تھیں اس میں اگر ایک انسان اپنے کسی عزیز کیلئے دوائی لئے جا رہا ہو اور اُس عزیز کی کمزور حالت کی وجہ سے دوا کے پہنچنے میں تاخیر کو مہلک سمجھتا ہو، تو اس حالت میں اگر کوئی اس پیالی کو توڑنا چاہے تو وہ انسان اُسے بچانے کیلئے کتنی جد و جہد کرے گا۔اگر وہ شخص کروڑ پتی بلکہ ارب پتی بھی ہے اور اس کے گھر میں چاندی کے برتنوں کی بھی پرواہ نہیں کی جاتی تو بھی اس وقت وہ اس مٹی کی پیالی کو بچانے کیلئے جس کی قیمت کچھ بھی کی نہیں اپنی ساری جائیداد کو قربان کرنے کیلئے تیار ہو جائے گا۔اس لئے نہیں کہ وہ مٹی کی پیالی کی اسے عزیز ہے بلکہ اس لئے کہ اس میں ایک ایسی چیز پڑی ہے جس کے ساتھ اس کے عزیز کی جان وابستہ ہے۔وہ اسے بچانے کیلئے اس لئے جدو جہد نہیں کرے گا کہ وہ مٹی کی بنی ہوئی پیالی قیمتی ہے ہے بلکہ اس لئے کہ اس میں وہ دوا ہے جس کا فوراً اس کے عزیز کے پاس پہنچنا ضروری ہے۔اسی طرح بے شک انسان خاک کا ایک پتلا ہے جو دنیا میں آتا اور چلا جاتا ہے اور اس لحاظ سے اس کی کوئی قیمت نہیں لیکن جب وہ اپنے اندر اُس تریاق کو بھر لیتا ہے جس سے دنیا نے زندہ رہنا ہے، اگر وہ اپنے اندر ایسی طاقت پیدا کر لیتا ہے جس سے دنیا میں نبوت قائم ہوتی ہے اور جس سے دنیا میں صفاتِ الہیہ نے جاری ہونا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی قیمت بہت کی بڑھ جاتی ہے اور وہ اس کی حفاظت کرتا اور دشمنوں کے ضرر سے اسے بچاتا ہے کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اب اگر یہ انسان ٹوٹا تو اس کے ساتھ ہی نبوت کا روح افزا شربت بھی بہہ جاتا ہے، توحید کی زندگی بخش روح بھی ضائع ہو جاتی ہے، دنیا میں صفات الہیہ کا ظہور بھی خطرہ میں پڑ جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ ہر کوشش کرتا ہے اس کے بچانے کی تا وہ چیزیں محفوظ رہ سکیں جو اس کے اندر ہیں اور تاوہ دنیا میں قائم اور جاری ہوسکیں۔جنگ بدر کے موقع پر جب لڑائی کی حالت ایسی خطرناک ہوگئی کہ یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ کفار مسلمانوں کو بالکل مٹادیں گے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک علیحدہ مقام پر جا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا کہ اے میرے خدا! اے میرے خدا! تیری ہدایت اور عبادت کو قائم رکھنے والا دنیا میں ان چند ایک لوگوں کے سوا کوئی نہیں اور اگر یہ تباہ ہو گئے تو اور کوئی نہیں جو