خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 132

خطبات محمود ۱۳۲ سال ۱۹۳۸ء نہ لیں تو بتلائیں اور کیا کریں۔اگر آپ یہی امید رکھتے ہیں کہ یہ بھی دلائل سے بات کریں اور کی صداقت کی باتیں ان کے منہ سے نکلیں تو پھر اللہ تعالیٰ کو مجھے بھیجنے کی کیا ضرورت تھی۔اس کا مجھے بھیجنا ہی بتا رہا ہے کہ ان لوگوں کے پاس صداقت نہیں رہی۔یہی اوچھے ہتھیار ان کے پاس ہیں اور آپ چاہتے ہیں کہ یہ ان ہتھیاروں کو بھی استعمال نہ کریں۔پھر دشمنانِ احمدیت کے ایسے ایسے گندے خطوط میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے نام پڑھے ہیں کہ انہیں پڑھ کر جسم کا خون کھولنے لگتا تھا اور پھر یہ خطوط اتنی کثرت سے آپ کو پہنچتے کہ میں سمجھتا ہوں اتنی کثرت سے میرے نام بھی نہیں آتے۔میری طرف سال میں صرف چار پانچ خطوط ایسے آتے ہیں علاوہ ان کے جو بیرنگ آتے ہیں اور واپس کر دئیے جاتے ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف ہر ہفتہ میں دو تین خط ایسے ضرور پہنچ جاتے تھے اور وہ اتنے گندے اور گالیوں سے پُر ہوا کرتے تھے کہ انسان دیکھ کر حیران ہو جاتا۔میں نے اتفاقاً اُن خطوط کو ایک دفعہ پڑھنا شروع کیا تو ابھی ایک دو خط ہی پڑھے تھے کہ میرے جسم کا خون کھولنے لگ گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھا تو آپ فوراً تشریف لائے اور آپ نے خطوط کا وہ تھیلا میرے ہاتھ سے لے لیا اور فرمایا انہیں مت پڑھو۔اس قسم کے خطوط کے کئی تھیلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس جمع ہو گئے تھے۔لکڑی کا ایک بکس تھا جس میں آپ یہ تمام خطوط رکھتے چلے جاتے۔کئی دفعہ آپ نے یہ خطوط جلائے بھی مگر پھر بہت سے جمع ہو جاتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہی تھیلوں کے متعلق اپنی کتب میں لکھا ہے کہ میرے پاس دشمنوں کی گالیوں کے کئی تھیلے جمع ہیں۔پھر صرف ان میں گالیاں نہیں ہوتی تھیں بلکہ واقعات کے طور پر اتہامات اور ناجائز تعلقات کا ذکر ہوتا تھا۔پس ایسی باتوں سے گھبرانا بہت نادانی کی بات ہے۔یہ باتیں تو ہمارے تقوی کو مکمل کرنے کیلئے ظاہر ہوتی ہیں۔ان میں ناراضگی اور جوش کی کی کون سی بات ہے۔آخر برتن کے اندر جو کچھ ہوتا ہے وہی اس میں سے ٹپکتا ہے۔دشمن کے دل میں چونکہ گند ہے اس لئے گند ہی اس سے ظاہر ہوتا ہے لیکن ہمیں چاہئے کہ ہم نیکی و تقوی پر زیادہ سے زیادہ قائم ہوتے چلے جائیں اور اپنے اخلاق کو درست رکھیں۔اگر دشمن کسی مجلس میں ہنسی اور تمسخر سے پیش آتا ہے تو تم اُس مجلس سے اٹھ کر چلے آؤ ، یہی خدا کا حکم ہے جو اس نے