خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 80

خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء مقابل پر آئے۔گویا خدا تعالیٰ کے فرشتے اُن کے رگر دکھڑے پہرہ دے رہے تھے۔حضرت علیؓ کے وقت میں بعض بدبختوں نے اختلاف کیا جس سے ایسا تفرقہ پیدا ہوا کہ جو تیرہ سو سال میں بھی نہیں مٹا۔اب دوبارہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اتحاد کی بنیاد رکھی ہے اور آپ سے خدا تعالیٰ نے دوبارہ وعدہ کیا ہے کہ نصرت بالرغب، اور یہ رعب چلتا جائے گا۔جب تک تم اس فیصلہ کا احترام کرو گے جو ۱۴ / مارچ ۱۹۱۴ء کو اس مسجد میں تم نے کیا تھا۔لیکن جب اس میں تزلزل آیا اللہ تعالیٰ بھی اپنی نصرت کو کھینچ لے گا جو اُس نے اس مسجد میں تمہارے فیصلہ کے بعد نازل کی تھی۔جب تک تم اس فیصلہ میں تبدیلی نہ کرو گے چونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ اِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيرُوا مَا بِأَنفُسِهِم لے وہ بھی نصرت کو واپس نہیں لے گا۔اُس وقت تک تمام حکومتیں اور تمام طاقتیں تم سے ڈریں گی اور ہر ترقی پر تمہارا قدم ہوگا۔دنیا کی تمام اقوام تمہارے پیچھے چلنے میں فخر محسوس کریں گی اور تمہارا سرسب سے اونچا ہوگا۔ابھی تو یہ ایک پیج ہے ، ایک کونپل پھوٹی ہے جو بڑھتے بڑھتے ایک مضبوط درخت بنے گا جس پر دنیا کے بڑے بڑے حاکم آرام کیلئے گھونسلے بنائیں گے۔لیکن جس دن تم اس فیصلہ کو بُھول جاؤ گے خدا نہ کرے اُس دن کے تصور سے بھی دل کانپ اُٹھتا ہے جب تم کہو گے کہ خدا نے کی خلیفہ کیا بنانا ہے ہم خود بنائیں گے۔تب فرشتے تبر لے کر آئیں گے کہ لو ہم اس درخت کو کاٹتے ہیں جسے خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے لگایا تھا مگر تم نے اس کی قدر نہ کی۔اب تم اپنے باغ لگاؤ اور مزے اُڑاؤ۔پچھلوں کی نے اس غلطی کا تجربہ کیا خدا نہ کرے کہ تم بھی کرو لیکن خدا نخواستہ اگر کبھی ایسی غلطی کی گئی تو دنیا دیکھ لے گی کہ تم صدیوں میں ایک درخت بھی نہ لگا سکو گے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ پھر کوئی ما مور مبعوث کرے۔(الفضل ۳ اپریل ۱۹۳۷ء) تذکرہ صفحہ ۶۶۹۔ایڈیشن چہارم الرعد: ۱۲