خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 664 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 664

خطبات محمود ۶۶۴ سال ۱۹۳۷ء کر سکتے ہوں۔کیونکہ دل میں سچائی کے حصول کی تڑپ ہونا اور بات ہے اور سچائی کو کسی روک کی کوئی پرواہ نہ کرتے ہوئے قبول کر لینا اور بات ہے۔لیکن بہر حال ملاقاتوں اور خطوط سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوؤں میں کثرت ایسے لوگوں کی ہے جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کی ایک تڑپ ہے اور یہی وہ چیز ہے جسے روحانیت کہتے ہیں۔روحانیت خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کی تڑپ کا نام ہے۔جس کے اندر یہ تڑپ تھوڑی ہو اُس میں تھوڑی روحانیت ہوتی ہے اور جس میں یہ تڑپ زیادہ ہو اس میں زیادہ ہی روحانیت ہوتی ہے اور عدمِ روحانیت اس بات کا نام ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کا خیال انسان کے دل میں نہ ہو۔جو شخص خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کی رضا کے ماتحت کام نہیں کرتا وہ چاہے جتنی بھی نیکی کرے دنیا دار کہلاتا ہے۔مگر وہ شخص جو خدا تعالیٰ کی رضا کیلئے کوئی کام کرتا ہے وہ چاہے کتنی ہی حقیر نیکی کرے دیندار کہلائے گا۔چنانچہ اگر کوئی شخص اس لئے چندہ دیتا ہے کہ اسے نام ونمود اور شہرت حاصل ہو، اُس کا جتھا مضبوط ہو، تو وہ دنیا دار کہلائے گا۔لیکن اگر کوئی شخص صرف ایک پیسہ یا دو پیسے چندہ دیتا ہے مگر اس لئے دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو تو وہ روحانی آدمی کہلائے گا۔یورپ میں آجکل لاکھوں نہیں کروڑوں روپے صدقہ و خیرات دینے والے موجود ہیں مگر کوئی شخص انہیں روحانی آدمی نہیں کہتا۔کیونکہ ان کی غرض محض یہ ہوتی ہے کہ ہماری قوم مضبوط ہو جائے۔ہمارا جتھا بڑا ہو جائے اور ہمیں دنیا میں عزت اور شہرت حاصل ہو جائے۔اسی لئے وہ باوجود بڑی بڑی رقوم چندہ دینے کے دنیا داری کہلاتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کی رضاء اور خوشنودی کیلئے اگر کوئی چھوٹی سے چھوٹی رقم بھی چندہ میں دیتا ہے تو وہ روحانی آدمی کہلاتا ہے۔تو میرا تجربہ یہ ہے کہ دنیا کے اکثر لوگوں میں روحانیت پائی جاتی ہے سوائے آوارہ گردوں اور اوباشوں کے بلکہ ان میں سے بھی ایک طبقہ ایسا ہے جس کے اندر خشیت اللہ ہوتی ہے۔لیکن اس طبقہ کو مستقلی کرتے ہوئے میرا تجربہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو حقیقی آوارگی میں مبتلا ہوتے ہیں اُن کے سوا دنیا کے ہری شخص میں کچھ نہ کچھ روحانیت ہوتی ہے مگر آوارگی کی تعریف جو میں کرتا ہوں وہ دوسرے لوگوں۔ނ مختلف ہے۔میں چور کو آوارہ نہیں کہتا ، میں ایک بد کار کو بھی آوارہ نہیں کہتا۔آوارہ میرے نزدیک وہ ہے جو اپنے وقت کو رائیگاں کھوتا اور اسے ہنسی اور مخول میں ضائع کر دیتا ہے۔ایسے لوگوں میں ہر گز روحانیت ں پائی جاسکتی۔میں نے چوروں میں بھی روحانیت دیکھی ہے ، میں نے بدکاروں میں بھی روحانیت