خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 650 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 650

خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء 66 دوسروں کو بھی۔بعض لوگوں نے کتا ہیں تو رٹی ہوئی ہوتی ہیں مگر یہ نہیں جانتے کہ علم کو استعمال کہاں کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے۔قابلیت سے میری مراد دراصل علم ہے جس سے کام اور اس کے کرنے کا طریق معلوم ہوتا ہے اور عقل اس علم کے استعمال کا محل بتاتی ہے اور اخلاص ، استقلال اور مداومت سے عقل کو کام پر لگائے رکھتا ہے۔جب یہ چیزیں جمع ہو جائیں اور پھر ساتھ محنت کی عادت اور اطاعت کا جذ بہ ہو تو پھر کامیابی ہی کامیابی ہوتی ہے لیکن ان کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔میں نے دیکھا ہے کہ تحریک جدید کے تمام کاموں سے زیادہ وقتیں تحریک جدید کے بورڈنگ میں پیش آئی ہیں۔اتفاق سے ہمیں وہاں کام کرنے کیلئے ایسے آدمی ملے جنہوں نے محنت سے کام نہ کیا یا عقل سے نہ کیا اور یہ نہ سمجھا کہ اس کا مقصد کیا ہے اور میں کیا چاہتا ہوں۔ان کی مثال من چہ سرائم و طنبورہ من چہ مے سرائید کی تھی۔اگر وہ ذمہ واری کا احساس کرتے اور خیال کرتے کہ لوگوں کے کام تو اس زمانہ میں نتائج پیدا کریں گے اور ہمارے آئندہ زمانہ میں جا کر تو یہ حالت نہ ہوتی۔مگر انہوں نے نہ خود کام کو سمجھا اور نہ ہی طالب علموں کی کی ذہنیت میں مناسب تبدیلی پیدا کی حتی کہ ان کو بتایا بھی نہیں گیا کہ اُن کو یہاں کیوں جمع کیا گیا ہے۔پس محض وقف سے کام نہیں بنتا ایسے وقف سے کام بنتا ہے کہ انسان محنت ، مشقت ، قربانی اور اطاعت سے کام کرنے کیلئے تیار ہو۔تحریک جدید کے بورڈنگ کا کام ہی ایک ایسا کام ہے کہ میں سمجھتا ہوں اگر ہم اس میں کامیاب ہو جاتے تو ایک ایسا انقلاب پیدا کر دیتے جس کی قیمت اور عظمت کا اندازہ الفاظ میں نہیں کیا جاسکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اگر مجھے چالیس خالص مومن مل جائیں تو میں ساری دنیا کو فتح کر سکتا ہوں۔اور اس قسم کے بورڈنگ میں موقع ہے کہ ایک زمانہ میں ایسے سوسو مومن پیدا کرسکیں۔پس آئندہ جولوگ اپنے آپ کو وقف کریں وہ یہ سمجھ کر کریں کہ اپنے آپ کو فنا سمجھیں گے اور جس کام پر ان کو لگایا جائے اُس پر محنت ، اخلاص اور عقل و علم سے کام کریں گے۔عقل اور علم کا اندازہ کرنا تو ہمارا کام ہے مگر محنت ، اطاعت اور اخلاص سے کام کا ارادہ ان کو کرنا چاہئے اور دوسرے یہ بھی خیال کر لینا چاہئے کہ وقت کے یہ معنے نہیں کہ وہ خواہ کام کیلئے موزوں ثابت ہوں یا نہ ہوں ہم ان کو علیحدہ نہیں کریں گے یا سزا نہیں دیں گے۔صرف وہی اپنے آپ کو پیش کرے جو سزا کو برداشت کرنے کیلئے تیار ہوں۔جن قوموں کے افراد میں سزا برداشت کرنے کی طاقت نہیں ہوتی وہ ہمیشہ ہلاک ہی ہوا کرتی