خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 651 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 651

خطبات محمود ۶۵۱ سال ۱۹۳۷ء ہیں۔صحابہ کو دیکھو وہ بعض اوقات ضرورت سے زیادہ سزا برداشت کرتے تھے اور خود بخود کرتے تھے۔ایک دفعہ ایک صحابی سے کوئی غلطی ہوگئی تو انہوں نے مسجد میں جا کر اپنے آپ کو ستون سے باندھ لیا اور کہا کہ جب تک اللہ تعالیٰ مجھے معاف نہ کر دے میں یہاں سے نہ ہٹوں گا۔مگر ایسا کرنے کیلئے بھی ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔کئی وہمی آدمی ہوتے ہیں جو ایسی بات سن کر فوراً اُچھل پڑتے ہیں کہ بہت اچھا گرمل گیا ہے۔آئندہ اگر ہم سے کبھی غلطی ہوئی تو ہم بھی اسی طرح کریں گے۔مگر جو اپنے آپ کو باندھتا اور پھر ادھر اُدھر دیکھتا ہے کہ کوئی آئے اور مجھے چھڑائے وہ خود بھی دھوکا خوردہ ہے۔اس کی مثال تو ایسی ہی ہے ہے جیسے کانگرسی قانون شکنی کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ گورنمنٹ ہمیں گرفتار کیوں کرتی ہے۔اس صحابی نے تو اپنی نیت پوری کر دی مگر رسول کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ جائز نہیں۔لیکن بہر حال سزا کا برداشت کرنا قومی زندگی کیلئے بہت اہم چیز ہے۔ایک شخص کو رسول کریم ﷺ نے سزا دی کہ یہ ہماری مجلس میں کبھی نہ آئے اور وہ ساری عمر نہ آسکا۔اسی طرح حضرت ابو بکر نے ایک شخص کو کی یہ سزا دی کہ ہمارے زمانہ میں کبھی مدینہ میں نہ آئے۔چنانچہ وہ نہیں آیا مگر کام اسی قربانی سے کرتا رہا۔تو سزا کا برداشت کرنا ہر مومن کیلئے ضروری ہے۔خاص کر وقف زندگی کی صورت میں تو بہت ہی ضروری ہے۔جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ اسے سزا دی ہی نہ جائے خواہ کچھ ہو ، وہ گویا چاہتا ہے کہ ہر حال کی میں اس کا لحاظ کیا جائے اور اس کیلئے دوسروں کو تباہ کر دیا جائے۔پس وقف کرنے والوں کیلئے پانچوں اوصاف کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ سزا برداشت کرنے کیلئے تیار ہوں۔اور بعد میں یہ نہ کہیں کہ اس وقت ہمیں نوکری مل سکتی تھی۔یونہی ہمارے دوسال ضائع کئے گئے۔پس وہی آگے آئے جس کی نیت یہ ہو کہ میں پوری کوشش کروں گا۔لیکن اگر نکتا ثابت ہوں تو ہے سزا بھی بخوشی برداشت کرلوں گا۔میں پھر ایک بار دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ ثواب کا ایک نہایت اہم کی موقع ہے۔انگریزی دان اور عربی دان دونوں قسم کے نوجوان اپنے آپ کو پیش کریں۔انٹرنس پاس یا اس سے اوپر گریجوایٹ انگریزی دان اور مولوی فاضل یا بعض ایسے جو کہ اگر چہ مولوی فاضل کی ڈگری تو نہ رکھتے ہو مگر عربی میں اچھی استعداد ہو، اپنے آپ کو پیش کر سکتے ہیں۔انتخاب کرنے کا اختیار تو ہمارا ہے۔مگر جو اپنے آپ کو پیش کریں وہ محنت اور قربانی کیلئے تیار ہوکر اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے سوا اور ہر طرف سے آنکھیں بند کر کے اپنے آپ کو پیش کریں اور اپنے سامنے ایک ہی مقصود رکھیں !