خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 65

خطبات محمود 13 سال ۱۹۳۷ء صفات الہیہ کا مظہر نہیں۔پس ہمارے دوستوں کو دیکھنا چاہئے کہ کیا واقعہ میں انہوں نے اپنے نیک اعمال میں دوام حاصل کر لیا ہے۔اگر ایسا نہیں تو ان کیلئے خوف کا مقام ہے۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ابھی بہت سے کاموں میں ہماری جماعت نے دوام کا مقام حاصل نہیں کیا۔ان کی مثال اُس سوئے ہوئے بچے کی طرح ہے جسے صبح کے وقت ایک متقی ماں نماز کیلئے جگا دیتی ہے۔جب اُس کی ماں اُس کو بستر پر بٹھا دیتی ہے تو ماں کے سہارے وہ بیٹھ جاتا ہے لیکن پھر بیٹھا بیٹھا ہی سو جاتا ہے۔جب ماں اس کو اس غفلت میں دیکھتی ہے تو پکڑ کر وضو کرنے کی جگہ پر لے جاتی ہے پھر وہاں جا کر بیٹھ جاتا ہے اور وہیں سو جاتا ہے۔پھر کی ماں اُسے جھنجھوڑتی ہے اور وضو کراتی ہے۔وضو کرنے کے بعد جب جسم کے سُوکھنے کا یہ کچھ دیر انتظار کرتا ہے تو پھر سو جاتا ہے اور ماں پھر آ کر اُسے اُٹھاتی اور سنتیں پڑھواتی ہے اور پھر اُسے نماز کیلئے باہر بھیج دیتی ہے۔وہ مسجد میں پہنچتا اور نماز شروع کر دیتا ہے مگر کبھی سجدہ میں سو جاتا ہے اور کبھی تشہد میں۔کبھی ساتھ والے نمازیوں کی حرکت سے اُس کی آنکھ کھل جاتی ہے اور کبھی وہ خواب غفلت میں پڑا ہی رہ جاتا ہے۔خدا کی عبادت کرنے والے عبادت کر کے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں اور وہ بیچارا وہیں نیند کا شکار ہوا پڑا رہتا ہے۔بہت سے دوستوں کی حالت میں دیکھتا ہوں ایسی ہی ہے۔جب انہیں کہا جاتا ہے کہ نمازیں پڑھو تو وہ نمازوں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔پھر جب کہا جاتا ہے چندے دو تو وہ چندے دینے لگ جاتے ہیں مگر نمازوں میں ڈھیلے ہو جاتے ہیں۔پھر جب کہا جاتا ہے کہ تبلیغ کرو تو وہ تبلیغ کرنے لگ جاتے ہیں مگر نمازوں اور چندوں میں سست ہو جاتے ہیں۔پھر جب کہا جاتا ہے روزے رکھو تو روزے رکھنے لگ جاتے ہیں مگر نمازوں اور چندوں اور تبلیغ میں سستی آجاتی ہے۔غرض جس طرح ایک چھوٹا بچہ ہر وقت سہارے کا محتاج ہوتا ہے اور اپنی توجہ صرف ایک ہی چیز کی طرف رکھ سکتا ہے ان کی توجہ محدود رہتی ہے اور پھر اس میں بھی سہارے کی محتاج۔اگر تحریک جدید پر ہمارے دوست غور کریں تو وہ اُنہیں مسائل جو میں نے اس میں بیان کئے تھے۔اول تو وہ دیکھیں گے کہ ان کو سارے یاد بھی نہیں اور پھر وہ محسوس کریں گے کہ ان میں سے ایک ایک چیز کی طرف وہ ایک ایک وقت میں متوجہ رہے ہیں۔جب چندے کا زور ہوا تو چندہ دینے لگے اور