خطبات محمود (جلد 18) — Page 586
خطبات محمود ۵۸۶ سال ۱۹۳۷ء کوئی شبہ ہیں کہ جو شخص آگے بڑھے گا اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بے انتہا برکات حاصل ہوں گی اور وہ ای اس کے عظیم الشان فوائد اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔غرض تحریک جدید کے دوسرے دور میں جو سکیم نافذ کی جانے والی ہے وہ نہایت ہی اہم ہے اور اس کی تفصیلات بہت وقت چاہتی ہیں جو آئندہ کئی خطبات میں اِنْشَاءَ اللہ تَعَالٰی بیان کی جائیں گے۔لیکن چونکہ تحریک جدید کا تیسر ا مالی سال ختم ہو رہا ہے اس لئے میں اس تحریک کے دوسرے دور کے مالی حصہ کو آج کے خطبہ میں ہی بیان کر دیتا ہوں۔یاد رکھنا چاہئے کہ تحریک جدید کا تیسرا سال مالی لحاظ سے ختم ہورہا ہے اور اب آئندہ کے متعلق میں نے اپنے خیالات کا اظہار کرنا ہے۔میں دوستوں اور اُن کارکن اصحاب کی واقفیت کیلئے جنہوں نے اس سلسلہ میں کام کرنا ہے بتا دینا چاہتا ہوں کہ جہاں اس کی تحریک کے دوسرے حصوں میں زیادہ سختیاں کی جائیں گی اور دوستوں سے زیادہ زور اور زیادہ جوش کی کے ساتھ کام لیا جائے گا وہاں میرا اس تحریک کے مالی حصہ کو ایک حد تک پیچھے ہٹانے کا ارادہ ہے۔میں نے مالی حصہ کے تمام پہلوؤں پر کافی غور کیا ہے اور میں ایک لمبے غور کے بعد جس نتیجہ پر پہنچا ہوں وہ یہ ہے کہ تحریک جدید کے مالی پہلو کو ایسی مضبوطی حاصل ہونے میں جس کے بعد کسی سالانہ تحریک کی اِنْشَاء الله ضرورت نہ رہے بلکہ اخراجات خود بخود نکلتے آئیں سات سال کی مسلسل قربانی کی ضرورت۔ہے۔پس آج سے کہ چوتھا سال شروع ہو رہا ہے سات سال اور تحریک جدید کا مالی مطالبہ ہوتا چلا جا۔گا۔لیکن اس رنگ میں کہ موجودہ تین سالہ دور میں سے پہلے سال جس قدر چندہ کسی نے دیا تھا کم از کم اُسی قدر چندہ اس سال دیا جائے ، ہاں اگر کوئی زیادہ دینا چاہے تو وہ زیادہ بھی دے سکتا ہے۔پس اس وقت میرا دوستوں سے مطالبہ یہ ہے کہ انہوں نے اِس تین سالہ دور میں سے پہلے سال جتنا چندہ دیا تھا کوشش کریں کہ اس سال اس چندہ کے برابر چندہ دیں۔لیکن میں کسی کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ ضرور اس کی قدر چندہ دے۔کیونکہ یہ طوعی چندہ ہے اور اس کا دینا میں نے ہر شخص کی مرضی پر منحصر رکھا ہوا ہے۔پس میں یہ نہیں کہتا کہ جو شخص اس سال چندہ دینے کی بالکل طاقت نہیں رکھتا وہ بھی ضرور چندہ دے۔میں کسی کو مجبور نہیں کر رہا اور نہیں کرنا چاہتا۔یہ طوعی چندہ ہے اور مجھے نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ باوجود اس کے کہ میں نے بار بار کہا ہے یہ طوعی چندہ ہے اور اگر کسی میں ہمت نہیں تو وہ وعدہ مت لکھائے پھر بھی بعض لوگ اپنی مرضی سے چندہ لکھا کر ادا نہیں کرتے اور اس طرح وہ ایک خطر ناک گناہ کے