خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 538

خطبات محمود ۵۳۸ ۳۵ سال ۱۹۳۷ء صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے متعلق ایک نہایت اہم کام اشاعت دین کا کام ہمیشہ جاری رہے گا (فرموده ۱۹/ نومبر ۱۹۳۷ء) تشہد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- ہمارے سلسلہ کو قائم ہوئے قریباً ۴۸ سال ہو گئے ہیں اور اب دو سال میں پچاس سال کی مدت ختم ہو جائے گی۔انسانی زندگیوں کے لحاظ سے پچاس سال کی عمر ایک نہایت ہی پختہ عمر ہوتی ہے اور پچاس سال کے آدمی بڑھاپے کی طرف جارہے ہوتے ہیں گورنمنٹ بھی اپنے ملازموں کو ۵۵ سال کی عمر میں پنشن دے دیتی ہے۔پس جو دعویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا تھا اُس کے ابتدائی حالات دیکھنے اور سننے والوں میں سے نو عمروں کی عمر اگر ۱۸ ۲۰ سال یا پندرہ سال بھی سمجھ لی جائے ، کیونکہ یہ چھوٹی سے چھوٹی عمر ہے جس میں بچہ کچھ سمجھدار ہو جاتا ہے ( یہ تو نہیں ہوسکتا کہ جو لوگ ایمان لائے وہ سب کے سب پندرہ برس کے ہی تھے۔اُن میں تو پندرہ برس کا شاید ہی کوئی ہو ورنہ ایمان لانے والے بالعموم ۲۵ ،۳۰ سال کی عمر کے لوگ تھے )۔تو وہ پندرہ سال کا بچہ آج ۶۳ سال کا ہوگا اور جس کی ہیں سال کی عمر تھی وہ آج ۶۸ برس کا ہوگا اور جس کی اُس وقت تمہیں سال عمر تھی وہ آج ۷۸ برس کا ہوگا۔اور ۷۸ سال کی عمر وہ ہے جس کو ہمارے ملک کے لوگ بہت کم پہنچتے ہیں اس لحاظ سے سمجھ لینا چاہئے کہ اس