خطبات محمود (جلد 18) — Page 539
خطبات محمود ۵۳۹ سال ۱۹۳۷ء وقت ابتدائی بیعت دیکھنے والوں میں سے ایک دو ہی زندہ ہوں گے اور بظاہر حالات دو چار سال کے بعد کوئی بھی ایسا شخص باقی نہیں ہو گا جس نے ابتدائی حالات کو دیکھا ہو۔پھر ابتدائی بیعت کے بعد ابتدائی مشکلات کا زمانہ تھا جو ۱۹۰۰ ء تک سمجھنا چاہئے۔اگر اُس زمانہ کو ۱۸۹۵ ء تک بھی سمجھا جائے تو اس کے کی دیکھنے والوں کی عمر بھی اگر وہ اُس وقت ہیں سال کے تھے آج ۶۲ سال کی ہوتی ہے۔اور اُس زمانہ کے کی آخری سال یعنی ۱۹۰۰ ء کو اگر لیا بھی جائے تو ہیں سال کی عمر کا آدمی اب ۵۷ سال کا ہوا۔اور اگر پندرہ برس کی عمر والے بھی شامل کر لئے جائیں تو گویا ایسے لوگ اب ۵۲ سال کی عمر کو پہنچ چکے ہوں گے۔غرضیکہ اُس زمانہ کے لوگ یا تو فوت ہو چکے ہیں یا وفات کے قریب ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ۱۹۰۸ء کے ابتدا میں ہوئی اور اُس وقت جن لوگوں کی عمر پندرہ سال کی سمجھی جائے کیونکہ یہی کم سے کم عمر ہے جس میں بچہ سمجھ رکھتا ہے تو ایسے لوگوں کی عمر بھی اب ۴۴ سال ہو گی۔جس کے معنے یہ ہیں کہ ایسے لوگ بھی زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس سال اور جماعت میں رہ سکتے ہیں اور بظاہر آج سے ۲۰، ۲۵ سال بعد شاید ہی کوئی صحابی جماعت کو مل سکے۔ایسے صحابی جس نے حضور کی باتوں کو سُنا اور سمجھا ہو۔یوں تو ایسے بچے بھی صحابی ہو سکتے ہیں جن سے جبکہ وہ دو چار سال کی عمر کے ہوں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے باتیں کی ہوں۔یہ عمروں کا اندازہ میں نے وہ کیا ہے جو عام طور پر ہوتا ہے۔بعض لوگ غیر معمولی طور پر لمبی عمر میں بھی پاتے ہیں۔جس دن میں نئے مہمان خانہ کی بنیاد رکھ کر آیا مجھے رستہ میں ایک بوڑھے آدمی ملے۔ان کی شکل حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی سے اس قدر رملتی جلتی تھی کہ میں نے انہیں دیکھتے ہی کہا کہ کیا آپ ان کے رشتہ دار ہیں؟ انہوں نے کہا میں ان کا چاہوں۔ان کے چہرے سے جس قسم کی طاقت ظاہر ہوتی تھی اُس سے اندازہ کر کے میں نے قیاس کیا کہ یہ غالباً ان سے چھوٹے ہیں۔بعض اوقات بھتیجے کی عمر چا سے زیادہ بھی ہوتی ہے اس لئے میں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ حافظ صاحب سے چھوٹے ہیں؟ تو انہوں نے اپنی مخصوص زبان میں جواب دیا کہ جدوں اُس دی ماؤ دا ویاہ ہو یا سی اودوں میں اٹھارہ دریاں دا ساں۔یعنی جب ان کی والدہ کی شادی ہوئی اُس وقت میری عمر اٹھارہ برس کی تھی۔حافظ صاحب کے قولی بھی مضبوط تھے۔اب تو بیماری کی وجہ سے وہ کمزور ہو گئے ہیں لیکن بیماری سے پہلے ہم ان کو مضبوط قومی کے آدمیوں میں سے سمجھا کرتے تھے۔لیکن پھر بھی اپنے چچا سے ان کا کوئی جوڑ ہی نہیں اور ان کے چچا نے کہا کہ آپ مجھے کمزور خیال نہ کریں۔اب بھی میں