خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 52

خطبات محمود ۵۲ سال ۱۹۳۷ء مرغ یا کبوتر کو ذبح کرنے کا تمہیں کوئی حق نہ تھا مگر جو اس جان کا مالک و خالق ہے اُس کے نام پر اور اُس کی اجازت سے تم ایسا کرتے ہو اور اُس کے دیئے ہوئے حق کو استعمال کرتے ہو اس لئے تم ظالم نہیں کی ہو۔پھر کھانے کے متعلق اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھ لیا کرو۔کیونکہ کئی کی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں ذبح کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ان میں گندہ خون یا تو ہوتا ہی نہیں یا بہت کم ہوتا ہے۔مثلاً مچھلی میں خون بہت ہی کم ہوتا ہے جس کے نکالنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔سبزیوں اور ترکاریوں میں خون بالکل ہوتا ہی نہیں اس لئے کھانے سے قبل بسم اللہ پڑھنے کا حکم دیا جس کا مطلب یہ ہے کہ تم اقرار کرتے ہو کہ تمہیں ان کے استعمال کا حق نہیں تھا مگر مالک کا حکم ہے۔اس طرح انسان کے اخلاق سدھارنے کا حکم دے دیا اور تمہارے نفس میں سے جبر اور ظلم و تعدی کے خیالات کو دور کر دیا۔پھر یہ بھی بتا دیا ہے کہ فلاں فلاں چیز کھاؤ اور فلاں فلاں نہ کھاؤ۔کیونکہ ان میں سے بعض کے اندر بداخلاقیاں ہیں ، بعض کے اندر بے دینی اور بے غیرتی ہے اور بعض میں زہر ہیں۔اب جو شخص اس طریق پر خوراک استعمال کرتا ہے وہ فائدہ اُٹھا لیتا ہے اور جو نہیں کرتا وہ نقصان اُٹھاتا ہے۔پھر حقوق اور ملکیت کے ذرائع بھی بتا دیئے ہیں۔ایک ملکیت ورثہ سے ملتی ہے ایک محنت اور مزدوری سے بطور بدلہ اور جزا کے اور ایک ایسی چیز کے حصول کے ساتھ جس کا اور کوئی مالک نہیں جسے لفظہ کہتے ہیں یعنی بے مالک پڑی تھی چیز کو پڑا پانا۔یہی تین صورتیں ملکیت کی ہیں۔آگے ورثہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک جو ماں باپ یا رشتہ داروں سے ملتا ہے اور ایک تحفہ۔ورثہ تحفہ کے معنوں میں بھی قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے انسان کو اپنی نعمتوں کا وارث کیا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ نَعُوذُ بِاللهِ اللہ تعالیٰ فوت ہو جاتا ہے اور انسان اس کے وارث ہوتے ہیں بلکہ اس کے معنی تحفہ کے ہیں۔پس ملکیت دنیا میں تین طرح ہی قائم ہوتی ہے۔اول ماں باپ یا بزرگوں سے ورثہ یا تحفہ کے طور پر یا محنت ومزدوری کے ذریعہ۔اس کی ایک صورت وہ بھی ہے جو اب تو نہیں مگر پہلے ہمارے ملک میں رواج تھا کہ ایک چیز کے کی بدلہ میں دوسری لے لی جاتی تھی۔مثلاً ساگ پات کے بدلہ میں عورتیں دانے لے لیتی تھیں تو محنت مزدوری خواه رو پید کی صورت میں وصول کی جائے یا ادل بدل کی صورت میں ، اس طرح بھی ملکیت قائم کی ہو جاتی ہے۔تیسری صورت ملکیت کی لقطہ ہے یعنی کوئی ایسی چیز مل جائے جس کا انسانوں میں سے کوئی مالک نہ ملے۔مثلاً کوئی قوم کسی ایسے جنگل میں جا پڑے جو کسی کی ملکیت نہ ہو تو وہ اس کی مالک ہو جائے