خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 53

خطبات محمود ۵۳ سال ۱۹۳۷ء گی۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر جنگل میں کوئی بھیٹر اکیلی پھر رہی ہو جہاں بھیڑئیے بھی ہوں تو تم اُس کے مالک کو آواز دے کر اور تلاش کرنے کے بعد اُسے لے سکتے ہو آخر اسے بھیڑئیے نے ہی کھا جانا ہے۔پس کیوں نہ تم ہی کھا لو۔تو دنیا میں یہ تینوں ذرائع جائز ملکیت کے ہیں۔اگر کوئی شخص ان کو استعمال نہ کرے تو یا تو وہ مالک ہی نہ بن سکے گا یا پھر اُس کی ملکیت نا جائز ہو گی۔جیسے کوئی چوری کر کے کسی کی چیز لے لے یا جبراً چھین لے۔پس وراثت، محنت یا لقطہ کے سوایا تو انسان محروم رہے گا اور یا نا جائز طور پر مالک بنے گا۔محروم کی مثال تو یہ ہے کہ کوئی انسان محنت نہ کرے اور ہاتھ پیر تو ڑ کر گھر میں پڑا رہے تو وہ ضرور فاقوں مرے گا۔مگر جو خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ ذرائع استعمال کرے گا اُسے ملکیت حاصل ہو جائے گی۔جائدادی کا ورثہ میں ملنا انسان کے اپنے اختیار میں نہیں۔اسی طرح لقطہ بھی اس کے اختیار میں نہیں مگر محنت اس کی کے اختیار میں ہے اور محنت کر کے وہ ملکیت حاصل کر سکتا ہے۔اس کے سوا اتفاقی طور پر ملے تو ملے ورنہ محروم ہی رہے گا اور اس کی مثال ایسی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے روٹی کھانے کیلئے منہ بنایا ہے اب اگر کوئی انسان محمدہ پلاؤ پکا کر کان میں ڈالنے لگ جائے تو اُس کا پیٹ نہیں بھرے گا۔یا نہایت خوشبو دار گلاب کا پھول لے کر اسے سونگھنے کی بجائے پاؤں کے نیچے جراب کے اندر رکھ لے یا کسی عمدہ نظارہ کو دیکھنے کے بجائے اُس پر منہ مارنا شروع کر دے یا کسی چیز کی ملائمت کو محسوس کرنے کیلئے اُس پر ناک رگڑنے لگے تو تھی ایسا انسان احمق کہلانے کے علاوہ محروم بھی رہے گا۔میں دیکھتا ہوں کہ تم میں سے بہت سے ان باتوں کو سنکر مسکرائیں گے کہ ایسا بیوقوف کون ہو سکتا ہے۔مگر تم میں سے بہت سے ہیں جو ایسے ہی بیوقوف ہیں۔انسان کی عادت ہے کہ وہ دوسروں کی باتیں سُن کر اُن پر ہنستا ہے۔مگر اُسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ معاملہ دراصل اُس کا اپنا ہی ہوتا ہے۔مثال تو بُری ہے جنہوں نے یہ کام کیا اچھا نہ کیا لیکن مثال کے طور پر بیان کرتا ہوں۔میں نے سنا ہے بعض لوگوں نے کسی اپنے دوست سے مذاق کیا اور چمگادڑیا ایسا ہی کوئی جانور پکا کر کھلا دیا۔اُسے معلوم تھا کہ ایسا گوشت پکایا گیا ہے مگر وہ سمجھتا تھا کہ یہ اُسے نہیں بلکہ دوسرے شخص کو دیا گیا ہے اس لئے وہ خود وہی گوشت کھاتا بھی جاتا تھا مگر یہ سمجھ کر کہ وہ اس کے ساتھی کے آگے ہے ، اُسے مذاق بھی کرتا جاتا تھا کہ کیسا اچھا اور لذیذ گوشت ہے، کیسا عمدہ پلاؤ ہے۔حالانکہ جس چیز پر وہ اپنے ساتھی کو مذاق کر ہا تھا وہ دراصل