خطبات محمود (جلد 18) — Page 518
خطبات محمود ۵۱۸ سال ۱۹۳۷ء ضائع کر دیا اور میں بھی ان کو اس طرف توجہ نہ دلا سکا۔کیونکہ میں یہ خیال کرتا رہا کہ ان کا جوش ٹھنڈا ہو جائے تو انہیں نصیحت کروں۔اور بعد میں خود انہوں نے اس دروازہ کو بند کر دیا اور جو ہونا تھا ہو گیا۔مگر ہمارا خدا ایسا رحم کرنے والا ہے کہ آج بھی ان کیلئے تو بہ کا دروازہ بند نہیں۔اور اسی کی طرف میں آج ان کی توجہ پھرانی چاہتا ہوں۔اب بھی اگر وہ خشیت اللہ سے کام لے کر اللہ تعالیٰ سے ہدایت چاہیں اور موذیا نہ طرز کو چھوڑ دیں تو اللہ تعالیٰ سے بعید نہیں کہ ان کی ہدایت کا راستہ کھول دے۔اللہ تعالیٰ رمضان میں دعائیں سنتا ہے۔شاید سندھ جانے سے پہلے مجھے اسی لئے بولنے کا موقع نہ ملا ہو کہ میں رمضان میں یہ خطبہ کروں اور ان کو ان ایام سے فائدہ اُٹھانے کا موقع مل جائے۔پس میں اس خطبہ کے ذریعہ ان کو توجہ دلاتا ہوں۔ان تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے جو کبھی میرے اور ان کے درمیان تھے اور ان تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے جو ان کے سلسلہ سے تھے کہ وہ بجائے ان باتوں پر زور دینے کے جو اُن کی عقل کی پیداوار کردہ ہیں اللہ تعالیٰ کے حضور کم سے کم چالیس دن استخارہ اور دُعا کریں اور کہیں کہ اے خدا! جس راستہ پر میں اس وقت چل رہا ہوں اگر یہ راستی اور کی ہدایت کا راستہ نہیں بلکہ گمراہی اور ضلالت کی راہ ہے اور جماعت میں تفرقہ پیدا کرنے کا موجب ہے او رتیری رضا اس میں نہیں ہے تو تو مجھے اس راستہ پر چلنے سے بچالے اور مجھے ہدایت دے اور اگر میں راستی اور ہدایت پر ہوں اور تیری رضا کی راہ پر چل رہا ہوں تو تو خود میرے لئے ایسی روشنی پیدا کر دے جس روشنی کی بناء پر میں اس راستہ پر قائم رہوں۔جیسا کہ بعض دوستوں کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے، میں سمجھتا ہوں ان کو بھی یہ معلوم ہے کہ ان کی کی حالت جو آج ہوئی ہے اس کی خدا نے آج سے بائیس سال پہلے مجھے خبر دے دی تھی۔جب شیخی صاحب مصر سے واپس آئے ہیں اُس وقت مجھے ایک رؤیا ہوا جس میں مجھے بتایا گیا کہ شیخ صاحب کا خیال کی رکھنا یہ مرتد ہو جائیں گے شاید میرے اس رویا کے اور بھی گواہ ہوں مگر دو گواہ تو میں یقینی طور پر پیش کر دیتا ہے ہوں۔ان میں سے ایک گواہ کے متعلق شاید وہ یہ کہہ دیں کہ ان کی گواہی کی کوئی حقیقت نہیں۔کیونکہ عام کی لوگ گواہ کے رتبہ اور مقام اخلاص کو نہیں دیکھتے ، وہ صرف یہ دیکھ کر کہ وہ ماتحتی میں کام کرتا ہے یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ وہ جھوٹ بول دے گا۔لیکن اگر وہ اس گواہ کے رتبہ اور مقام کو مد نظر رکھیں تو میں سمجھتا ہوں وہ ان اس گواہ کی گواہی کو بھی رو نہیں کریں گے۔خصوصاً جبکہ ایک آزاد گواہی اس کے ساتھ شامل ہے۔یہ گواہی