خطبات محمود (جلد 18) — Page 483
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء مزے سے چاہتے نہیں ؟ اگر کوئی شخص تم پر اعتراض کرے اور کہے کہ تم شہد کی مکھی کی قے کیوں چاہتے ہو تو تم اسے پاگل سمجھو گے اور اسے کہو گے بے شک یہ قے ہے مگر یہ شہد کی مکھی کی قے ہے عام مکھی کی نہیں۔تم روزانہ دیکھتے ہو کہ ڈاکٹر تمہیں ہدایت دیتا ہے کہ تم اس قصاب سے گوشت خرید وجس کی دکان کے دروازوں میں جالی لگی ہوئی ہو اور کھیاں اُس کے گوشت پر نہ بیٹھتی ہوں۔تم اس حلوائی سے مٹھائی خریدا کرو جس کی دُکان پر مکھیاں نہ بیٹھتی ہوں کیونکہ مکھی کے بیٹھنے کی وجہ سے چیزیں گندی ہو جاتی ہیں اور بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔مگر دوسری طرف جب تم بیمار ہوتے ہو تو وہی ڈاکٹر آتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں دوائی شہد میں ملا کر کھاؤ۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ کل تو یہ ڈاکٹر یہ کہہ رہا تھا کہ مکھیوں کی غلاظت سے ہیضہ پھیلتا ہے اور آج یہ کہہ رہا ہے کہ مکھی کے قے کھاؤ تو شفاء ہوگی۔اگر کوئی یہ اعتراض کرے تو اسے بیوقوف کہیں گے کیونکہ ہر شخص اُسے کہے گا کہ ہیضہ اور دوسری متعدی بیماریاں عام لکھیوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں نہ کہ شہد کی مکھی کی وجہ سے۔شہد جو شہد کی مکھی کا اُگال ہے اس سے تو نہ صرف یہ کہ کوئی بیماری پیدا نہیں ہوتی بلکہ وہ کئی بیماریوں کو دُور کرتا ہے۔اگر ایک عام مکھی اور شہد کی مکھی میں فرق ہے ، اگر ایک مکھی سے ہیضہ پیدا ہوتا ہے تو دوسری مکھی کی قے سے شفاء حاصل ہوتی ہے تو کیا بندے اور خدا کے بندے میں کوئی فرق نہیں۔کیا شہد خدا سے بڑا ہے کہ اس کی طرف منسوب ہو تو مکھی بدل جائے لیکن خدا تعالیٰ کی طرف منسوب ہو کر انسان عام انسانوں جیسا رہے۔پس بے شک وہ تھوک تھوک ہی تھا مگر وہ ہی خدا کے بندے کا تھوک تھا اور ان دونوں تھوکوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔جس طرح شہد کی مکھی کے تھوک اور عام لکھی کے تھوک میں فرق ہے، اسی طرح ان تھوکوں میں فرق ہے۔غرض محمد ﷺ کفار کی نگاہ میں ایک انسان تھے ، ویسے ہی انسان جیسے دنیا میں اور کروڑوں انسان ہیں مگر صحابہ کو آپ خدا کے بندے نظر آتے تھے۔آج بھی دنیا کی نگاہ میں مسیح موعود صرف ایک انسان ہے اور لوگ ہم پر اعتراض کرتے ہیں کہ کی تم ایک آدمی کے پیچھے چل رہے ہو۔ہم میں سے بھی کئی لوگ حضرت مسیح موعود کی نسبت سمجھتے ہیں کہ ایک نیک آدمی آیا اور گزر گیا اور وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ایک خدا کا بندہ آیا اور گزر گیا۔جس طرح ایک آگ میں پڑا ہوا لو ہالو ہا نہیں رہتا بلکہ آگ کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور گوجنس کے لحاظ سے وہ لوہا ہی رہتا ہے مگر خواص کے لحاظ سے آگ بن جاتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے بندے اپنی جنس کے لحاظ سے انسان ہی رہتے