خطبات محمود (جلد 18) — Page 484
خطبات محمود ۴۸۴ سال ۱۹۳۷ء ہیں مگر اپنے کام کے لحاظ سے وہ خدا کی قدرتیں دکھاتے ہیں۔جیسے پیتے ہوئے لو ہے اور گرم گرم انگارہ میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔جو انگارہ کام کرتا ہے وہی لوہا کام کرتا ہے۔جس طرح انگارہ جلاتا ہے اسی طرح لو ہا بھی جلاتا ہے۔جس طرح انگارہ داغ دیتا ہے اسی طرح لوہا بھی اگر بدن سے چھو جائے تو وہ بدن کو جھلس دیتا ہے۔جس طرح انگارہ روشنی دیتا ہے اسی طرح لوہا بھی روشنی دیتا ہے۔غرض انگارے اور لو ہے میں کام کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں رہتا۔صرف یہ فرق رہے گا کہ انگارا سارے کا سارا آگ بن جائے گا۔مگر لو ہا اس وقت تک آگ رہے گا جب تک وہ آگ میں پڑا رہے گا۔جب اسے آگ سے الگ کر لیا جائے گا تو وہ ٹھنڈا ہو جائے گا۔مگر وہ لوگ جن کے متعلق خدا یہ فیصلہ کر دے کہ انہیں محبت الہی کی آگ سے کبھی نکالا نہیں جائے گا بلکہ وہ ہمیشہ اس آگ میں رہیں گے ، وہ صفات الہیہ سے ظلی طور پر متصف ہو جاتے ہیں اور ان کی انسانیت اس کی تجلیات کے نیچے ہمیشہ کیلئے قرار پکڑ لیتی ہے۔غرض خدا تعالیٰ کی ہم پر یہ بہت بڑی نعمت ہے کہ اُس نے اپنے مسیح کو ہم میں بھیجا اور اس کی شناخت کی ہمیں تو فیق دی اور ہمیں چاہئے کہ ہم اس نعمت کی قدر کریں۔میں بیرونی جماعتوں کو بھی مخاطب کرتا ہوں مگر خصوصیت سے میرے مخاطب قادیان کے لوگ ہیں۔میں کہتا ہوں تمہیں چاہئے کہ تم اپنے اخلاق ، اپنے افعال ، اپنے اقوال ، اپنی لڑائیوں ، اپنے جھگڑوں ، اپنی صلحوں اور اپنی صفائیوں یہ کی ہمیشہ یہ امر مد نظر رکھو کہ تم نے خدا کے ایک بندے کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا ہوا ہے۔جس طرح آگ میں پڑا ہوا لو ہالو ہ نہیں رہتا بلکہ آگ بن جاتا ہے۔اسی طرح تم بھی اب خدا کے ایک بندے کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے کر کوئی اور چیز بن چکے ہو۔تمہیں بھی اپنا وقار سمجھنا چاہئے اور تمہیں بھی اپنی قدر و قیمت کا اندازہ لگانا چاہئے۔تم باتیں کرتے وقت کیوں یہ سمجھتے ہو کہ عبداللہ یا عبد الرحیم یا عبد الرحمن بول رہا ہے۔تم سمجھ لو کہ عبداللہ مر چکا ، عبد الرحیم مر چکا ، عبدالرحمن مر چکا اور اب خدا کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دینے والا ایک شخص بول رہا ہے۔پس تمہارے اعمال اور تمہارے افعال اور تمہارے اقوال تمام دنیا سے نرالے ہونے چاہئیں۔اور ہر قدم پرتمہیں یہ سوچنا چاہئے کہ خدا کے بندے کو اب کیا کرنا چاہیے۔یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ مجھے کیا کرنا چاہئے۔جب تم نے بیعت کر لی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے اپنے لئے موت قبول کر لی۔سو جب تم مر گئے تو تمہیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اب تم پہلے کے سے انسان نہیں رہے بلکہ سیح موعود بن گئے ہو۔تمہیں باتیں کرتے وقت سوچنا چاہئے کہ گفتگو کیلئے شریعت کے کون سے آداب