خطبات محمود (جلد 18) — Page 455
خطبات محمود ۴۵۵ سال ۱۹۳۷ء اور وہ نہیں جانتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی وہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرے گا۔وہ یہ قیاس آرائیاں کرتا رہتا تھا کہ رسول کریم ﷺ فوت ہوں تو میں عرب کا بادشاہ بنوں گا۔لیکن اب اس صلى نے دیکھا کہ ابوبکر کی نیکی اور تقویٰ اور بڑائی مسلمانوں میں تسلیم کی جاتی ہے۔جب رسول کریم یا اللہ نماز پڑھانے تشریف نہیں لاتے تو ابو بکر آپ کی جگہ نماز پڑھاتے ہیں۔رسول کریم ﷺ سے کوئی فتوی کی پوچھنے کا موقع نہیں ملتا تو مسلمان ابو بکر سے فتویٰ پوچھتے ہیں۔یہ دیکھ کر عبد اللہ بن ابی بن سلول کو جو آئندہ کی بادشاہت ملنے کی امید لگائے بیٹھا تھا سخت فکر لگا اور اُس نے چاہا کہ اس کا ازالہ کرے۔چنانچہ اسی امر کا ازالہ کرنے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شہرت اور آپ کی عظمت کو مسلمانوں کی نگاہوں۔گرانے کیلئے اس نے حضرت عائشہ پر الزام لگا دیا تا حضرت عائشہ پر الزام لگنے کی وجہ سے رسول کریم کو حضرت عائشہ سے نفرت پیدا ہوا اور حضرت عائشہؓ سے رسول کریم ﷺ کی نفرت کا یہ نتیجہ نکلے کہ ابوبکر کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی نگاہوں میں جو اعزاز حاصل ہے وہ کم ہو جائے اور ان کے آئندہ خلیفہ بنے کا کوئی امکان نہ رہے۔چنانچہ اسی امر کا اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں ذکر کرتا اور فرماتا ہے إِنَّ الَّذِينَ جَاءُ وُا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمُ کہ وہ لوگ جنہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر اتہام لگا یا وہ تم لوگوں میں سے ہی مسلمان کہلانے والا ایک جتھہ ہے مگر فرماتا ہے لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَّكُمْ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمُ ۲۵ تم یہ خیال نہ کرو کہ یہ الزام کوئی بُرا نتیجہ پیدا کرے گا بلکہ یہ الزام بھی کی تمہاری بہتری اور ترقی کا موجب ہو جائے گا چنانچہ لو اب ہم خلافت کے متعلق اصول بھی بیان کر دیتے ہیں اور تم کو یہ بھی بتادیتے ہیں کہ یہ منافق زور مار کر دیکھ لیں یہ ناکام رہیں گے اور ہم خلافت کو قائم کر کے چھوڑیں گے۔کیونکہ خلافت ، نبوت کا ایک جزو ہے اور الہی نور کے محفوظ رکھنے کا ایک ذریعہ کی ہے۔پھر فرماتا ہے لِكُلِّ امْرِى ءِ مِنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْم۔اسے ان الزام لگانے والوں میں سے جیسی جیسی کسی نے کمائی کی ہے ویسا ہی عذاب اسے مل جائے گا۔چنانچہ جو لوگ الزام لگانے کی سازش میں ۱۲۷ شامل تھے انہیں اتنی اسی کوڑے لگائے گئے۔پھر فرمایا وَ الَّذِی تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ مگر ان میں سے ایک شخص جو سب سے بڑا شرارتی ہے اور جو اس تمام فتنہ کا بانی ہے اسے ہم کوڑے نہیں لگوائیں گے بلکہ اس کو عذاب ہم خود دیں گے۔وَالَّذِی تَوَلَّى كِبَرَهُ و شخص جس نے اصل میں بات بنائی ہے ( یعنی عبداللہ بن ابی بن سلول ) وہ عام عذاب کا مستحق نہیں خاص اور بڑے عذاب کا مستحق۔