خطبات محمود (جلد 18) — Page 456
خطبات محمود ۴۵۶ سال ۱۹۳۷ء جو عذاب ہم ہی دے سکتے ہیں۔چنانچہ اس حکم کے ماتحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُسے عذاب مل گیا اور رسول کریم ﷺ کی زندگی میں ہی وہ ہلاک ہو گیا اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کے بعد خلیفہ ہو گئے۔اس الزام کا ذکر کرنے اور عبد اللہ بن ابی ابن سلول کی اس شرارت کو بیان کرنے کے بعد کہ اس نے خلافت میں رخنہ اندازی کرنے کے لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگایا ، اللہ تعالیٰ معاً فرماتا ہے اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِى زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ کہ اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین کا نور ہے مگر اُس کے نور کو مکمل کرنے کا ذریعہ نبوت اور اس کے بعد اس کے دنیا میں پھیلانے اور اسے زیادہ سے زیادہ عرصہ تک قائم رکھنے کا اگر کوئی ذریعہ ہے تو وہ خلافت ہی ہے۔پس ان منافقوں کی تدبیروں کی وجہ سے ہم اس عظیم الشان ذریعہ کو تباہ نہیں ہونے دیں گے۔بلکہ اپنے نور کے دنیا میں دیر تک قائم رکھنے کیلئے اس سامان کو مہیا کریں گے۔اس بات کا مزید ثبوت کہ اس آیت میں جس نور کا ذکر ہے وہ نور خلافت ہی ہے، اس سے اگلی آیتوں میں ملتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ اس سوال کا جواب دیتا ہے کہ یہ نور کہاں ہے۔فرماتا ہے فِي بُيُوتِ یہ نور خلافت چند گھروں میں پایا جاتا ہے۔نور نبوت تو صرف ایک گھر میں ہے مگر نورِ خلافت ایک گھر میں نہیں بلکہ فی بُيُوتِ چند گھروں میں ہے۔پھر فرماتا ہے اذنَ اللَّهُ اَنْ تُرْفَعَ وہ گھرا بھی چھوٹے سمجھتے جاتے ہیں مگر خدا نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ ان گھروں کو اونچا کرے۔کیونکہ نبوت کے بعد خلافت اس خاندان کو بھی اونچا کر دیتی ہے جس میں سے کوئی شخص منصب خلافت حاصل کرتا ہے۔اس آیت نے یہ بتا دیا کہ اس جگہ اللہ تعالیٰ کا مقصد نور خلافت کو بیان کرنا ہے اور یہ بتانا ہے کہ نور خلافت ، نور نبوت اور نور الوہیت کے ساتھ گلی طور پر وابستہ ہے اور اس کو مٹانا دوسرے دونوں نوروں کو مٹانا ہے۔پس ہم اسے مٹنے نہ دیں گے اور اس نور کو ہم کئی گھروں کے ذریعہ ظاہر کریں گے تاتی نور نبوت کا زمانہ اور اس کے ذریعہ سے نورالہیہ کے ظہور کا زمانہ لمبا ہو جائے۔چنانچہ خلافت پہلے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئی۔پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئی۔پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئی اور پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئی۔کیونکہ خدا نے یہ فیصلہ کر دیا تھا کہ ان بیوت کو اونچا کرے۔تُرفَع کے لفظ نے یہ بھی بتا دیا کہ الزام لگانے والوں کی اصل غرض یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو