خطبات محمود (جلد 18) — Page 4
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء اپنی تعلیم میں اسی امر کو مدنظر رکھے اور ایک قاضی بھی اپنے فیصلوں میں اسی امر کو مد نظر رکھے۔غرض جس جس کام میں کوئی احمدی مشغول ہے وہ یہ یاد رکھے کہ اس کے کام کا آخری نتیجہ اسی صورت میں ظاہر ہو کہ دُنیا ، خدا اور اس کے رسول کیلئے فتح کرتا جائے۔اگر ہمارے تمام دوست اس مقصود کو اپنے سامنے رکھیں تو اُن کو ذہنی طور پر اتنی بلندی حاصل ہو کہ جو دُنیا میں کسی قوم کو حاصل نہیں ہوئی۔آج تو ان کی مثال ایک کنویں کے مینڈک کی سی ہے کہ ایک نہایت چھوٹی سی منزلِ مقصود ان کے سامنے ہے اور وہ اتنا بھی تو نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ نے کیا کام ان کے سپرد کیا ہے۔حالانکہ کام کرنے سے پہلے خود کام کی مقدار کا جاننا ضروری ہوتا ہے۔جیسا کہ میں شروع میں کہہ چکا ہوں کہ ان میں سے بعض چندہ دیتے ہیں اور خوش ہو جاتے ہیں اور بعض نمازیں پڑھتے ہیں اور خوش ہو جاتے ہیں اور بعض روزے رکھتے ہیں اور خوش ہوتی جاتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ تعلیمیں تو اسلامی تعلیم کے سمندر کا ایک قطرہ ہیں۔پس چاہئے کہ ہمارے دوست سلسلہ کے قیام کی اہمیت کو سمجھیں اور اسلام کی وسیع تعلیم کو اپنے سامنے رکھیں اور دنیا میں جس قدر خرابیاں پیدا ہورہی ہیں ان کو دور کرنے کی کوشش کریں اور صرف ایک محدود خیال کے اندر اپنے آپ کو مقید نہ کریں۔قرآن شریف میں بھی آتا ہے اور حدیث میں بھی آتا ہے کہ مومن کا ادنی بدلہ آسمان اور زمین ہوں گے۔اب سوچو تو سہی کہ آسمان اور زمین مومن کو مل کیونکر سکتے ہیں جب تک اس کے اعمال آسمان اور زمین پر پورے طور پر حاوی نہ ہوں۔در حقیقت قرآن کریم اور حدیث کا یہی منشاء ہے کہ مومن کے خیالات اور اُس کے اعمال آسمان اور زمین کی تمام باتوں پر حاوی ہوتے ہیں اور چونکہ وہ آسمان اور زمین کی تمام چیزوں کی اصلاح کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے انعام میں اس کو آسمان اور زمین بخش دیتا ہے۔ورنہ جو شخص زمین کی ایک بالشت کی اصلاح میں لگا ر ہے اُس کو حق کی ہی کہاں حاصل ہوسکتا ہے کہ آسمان اور زمین اسے بخش دیئے جائیں۔وہ تو اس بالشت بھر زمین کا ہی حقدار ہوسکتا ہے۔پس اگر تم چاہتے ہو کہ کامل مومن تصور کئے جاؤ اور خدا تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق زمین اور آسمان تمہیں انعام کے طور پر بخش دیئے جائیں تو زمین اور آسمان کی اصلاح کی طرف توجہ کرو اور اس کا کوئی گوشہ باقی نہ رہے جس کی اصلاح کا ارادہ یا جس کی اصلاح کیلئے کوشش تمہاری نیتوں اور کوششوں سے باہر ہو۔ہاں میں یہ مانتا ہوں کہ بعض انسانوں کیلئے باوجود کوشش کے بعض کاموں کا پورا کرنا ناممکن ہوتا ہے لیکن ارادہ کرنا تو ناممکن نہیں ہوتا۔پس عمل بے شک گلی طور پر آپ کے اختیار میں نہیں لیکن ارادہ