خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 3

خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء زندگی کے ہر شعبہ میں اسلامی تعلیم کو قائم کرے گی اور جس حد تک اُسے عمل کرنے کا موقع ہے وہ خود عمل کرے گی اور جن امور پر اسے ابھی قبضہ اور تصرف حاصل نہیں ان کو اپنے اختیار میں لانے کی سعی اور کوشش کرے گی۔یا درکھو کہ سیاسیات اور اقتصادیات اور تمدنی اُمور حکومت کے ساتھ وابستہ ہیں۔پس جب تک ہم اپنے نظام کو مضبوط نہ کریں اور تبلیغ اور تعلیم کے ذریعہ سے حکومتوں پر قبضہ کرنے کی کوشش نہ کریں، ہم اسلام کی ساری تعلیموں کو جاری نہیں کر سکتے۔پس اس پر خوش مت ہو کہ تلوار سے جہاد آجکل جائز نہیں یا یہ کہ دینی لڑائیاں بند کر دی گئی ہیں۔لڑائیاں بند نہیں کی گئیں ، لڑائی کا طریقہ بدلا گیا ہے اور شاید موجودہ طریقہ پہلے طریق سے زیادہ مشکل ہے کیونکہ تلوار سے ملک کا فتح کرنا آسان ہے لیکن دلیل سے دل کا فتح کرنا مشکل ہے۔پس یہ مت خیال کرو کہ ہمارے لئے حکومتوں اور ملکوں کا فتح کرنا بند کر دیا گیا ہے بلکہ ہمارے لئے بھی حکومتوں اور ملکوں کا فتح کرنا ایسا ہی ضروری ہے جیسا کہ رسول کریم ﷺ کے صحابہ کے لئے ضروری تھا صرف فرق ذریعے کا ہے۔وہ لوہے کی تلوار سے یہ کام کرتے تھے اور ہمیں دلائل کی تلوار سے یہ کام کرنا ہوگا۔پس آرام سے مت بیٹھو کہ تمہاری منزل بہت دُور ہے اور تمہارا کام بہت مشکل ہے اور تمہاری ذمہ واریاں بہت بھاری ہیں۔تم ایک خطر ناک صورتِ حالات میں سے گزر رہے ہو کہ باوجود تمہاری کمزوری کے خدا تعالیٰ نے تم پر وہ بوجھ لادا ہے کہ جس کے اُٹھانے سے زمین اور آسمان بھی کانپتے ہیں۔دنیا کی حکومتیں صرف ایک ایک قوم سے لڑائی کے موقع پر خائف ہو جاتی ہیں اور انجام سے ڈرتی ہیں۔لیکن آپ لوگوں کو خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ قرآن کی تلوار لے کر دنیا کی تمام حکومتوں پر ایک ہی وقت میں حملہ کر دیں اور یا اس میدان میں جان دے دیں یا اُن ملکوں کو خدا اور اس کے رسول کیلئے فتح کریں۔پس چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف مت دیکھو اور اپنے مقصود کو اپنی نظروں کے سامنے رکھو۔اور ہر احمدی خواہ کسی شعبۂ زندگی میں اپنے آپ کو مشغول پاتا ہو اُس کو اپنی کوششوں اور سعیوں کا مرجع صرف ایک ہی نقطہ رکھنا چاہئے کہ اُس نے دُنیا کو اسلام کیلئے فتح کرنا ہے۔ہمارا ایک تاجر اپنی تجارت کے تمام کاموں کی میں اسی امر کو مدنظر رکھے اور ایک صناع بھی اپنے تمام کاموں میں اسی امر کو مد نظر رکھے اور ایک معلم بھی