خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 369

خطبات محمود ۳۶۹ سال ۱۹۳۷ء اب کو بھی اطلاع دی۔چلتے چلتے آپ کی اونٹنی حدیبیہ کے مقام پر بیٹھ گئی اور زور لگانے کے باوجود نہ اٹھی۔آپ نے فرمایا کہ اسے خدا تعالیٰ نے بٹھا دیا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ اس کی مشیت یہی ہے کہ ہم ج آگے نہ جائیں گے۔مسلمانوں کی آمد دیکھ کر کفار نے بھی اپنا لشکر جمع کرنا شروع کیا۔کیونکہ وہ یہ گوارا نہیں کر سکتے تھے کہ مسلمان طواف کریں۔رسول کریم ہے ان کے آدمیوں کی انتظار میں تھے کہ آئیں تو شائد کوئی سمجھوتہ ہو جائے۔ان کی طرف سے مختلف نمائندے آئے اور آخر کا صلح کا فیصلہ ہوا۔شرائط صلح میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ مسلمان اس وقت واپس چلے جائیں۔وہ سمجھتے تھے کہ اگر اب انہوں نے طواف کر لیا تو ہمارے پر سٹیج میں فرق آئے گا اس لئے انہوں نے یہی شرط پیش کی کہ اب کے واپس چلے جائیں اور اگلے سال آکر طواف کر لیں۔دوسری شرط یہ ہوئی کہ اگر کوئی کا فرمسلمان ہو کر رسول کریم ﷺ کے پاس آجائے تو آپ اسے واپس کر دیں گے لیکن اگر کوئی مسلمان مرتد ہو کر مکہ والوں کے پاس جانا چاہے تو اسے اس کی اجازت ہوگی۔بظاہر یہ شرطیں بڑی کمزور شرطیں تھیں اور پھر جس وقت آپ نے اس شرط کو ی منظور کر لیا ، اُسی وقت ایک مسلمان جس کے ہاتھوں اور پاؤں میں کڑیاں اور بیڑیاں پڑی تھیں ، جس کا تمام جسم لہولہان تھا نہایت تکلیف سے لڑھکتا اور گرتا پڑتا وہاں پہنچا اور عرض کیا يَا رَسُولَ اللهِ! میرا حال دیکھئے میں مسلمان ہوں اور میرے رشتہ داروں نے اس طرح مجھے بیڑیاں پہنائی ہوئی ہیں اور مجھے ہے شدید تکالیف پہنچارہے ہیں۔آج کفار لڑائی کیلئے تیار ہوئے تو میرا پہرہ ذرا کمزور ہوا اور میں موقع پا کر نکل بھاگا اور اس حالت میں یہاں پہنچا ہوں۔صحابہؓ کو اس کی حالت دیکھ کر اتنا جوش تھا کہ وہ آپے سے باہر ہورہے تھے۔لیکن اہل مکہ کی طرف سے جو شخص سفیر ہو کر آیا ہوا تھا اُس نے رسول کریم ﷺ کا نام لے کر کہا کہ ہمیں آپ سے غداری کی امید نہیں۔آپ نے وعدہ کیا ہے کہ ہم میں سے اگر کوئی شخص آپ کے پاس آئے تو اسے واپس کر دیں گے اس لئے یہ شخص واپس کیا جائے۔اُس وقت اُن ہزاروں آدمیوں کے سامنے جو اپنے گھروں سے جانیں دینے کیلئے نکلے تھے ، ان کا ایک بھائی تھا جو مہینوں سے قید تھا ، جس کے ہاتھوں اور پاؤں سے خون کے فوارے پھوٹ رہے تھے اور جس کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لایا تھا۔اسے دیکھ کر صحابہ کی تلوار میں میانوں سے باہر نکل رہی تھیں اور وہ دلوں میں کہہ رہے تھے کہ ہم سب یہیں ڈھیر ہو جائیں گے مگر اسے واپس نہیں جانے دیں گے۔مگر رسول کریم ﷺ نے اُن کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ خدا کے رسول دھوکا نہیں کیا کرتے۔ہم نے وعدہ کیا لی