خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 368

خطبات محمود ۳۶۸ سال ۱۹۳۷ء یا درکھو کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ جو مسلمانوں کا دین ہوگا ہم اسے مضبوط کریں گے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ جو خلیفہ کا دین ہوگا اسے مضبوط کریں گے۔جس پالیسی کو خلفا ء پیش کریں گے ہم اسے ہی کامیاب بنائیں گے اور جو پالیسی ان کے خلاف ہوگی اُسے نا کام کریں گے۔پس اگر کوئی مبائع اور مومن کوئی اور طریق اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اسے نا کام کریں گے۔اب اس پر غور کرو ایک شخص یا دس ہیں یا ہزار دو ہزار یا دس بیس ہزار لوگ خلیفہ سے کوئی الگ پالیسی رکھتے ہی ہیں یا اپنی اپنی الگ پالیسیاں رکھتے ہیں تو خدا تعالیٰ نے تو جیسا کہ وہ فرما چکا ہے صرف خلیفہ کی پالیسی کو ہی کامیاب کرنا ہے۔تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اگر جماعت ایک لاکھ کی ہے تو اس میں سے اتنے ہزار کی کوششیں رائیگاں جائیں گی۔اگر ایک ہزار کی کوششیں اللہ تعالیٰ رو کر رہا ہے تو گویا 99 ہزار یا اگر دست ہزار کی رڈ ہورہی ہیں تو نوے ہزار، اگر بیس ہزار کی رڈ ہورہی ہیں تو اسی ہزار ، اگر پچاس ہزار کی روانی ہو رہی ہیں تو صرف پچاس ہزار لوگوں کی کوششیں کامیابی کے راستہ پر ہو رہی ہوں گی اور اس طرح جس نسبت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف سے فتوحات آتی ہیں وہ اسی نسبت سے کم ہوتی جائیں گی۔ایک لاکھ سپاہیوں کو جو کامیابی ہوئی تھی اتنی نہیں ہوگی اور جتنی کوششیں رڈ ہورہی ہوں گی اتنی کامیاب کوششوں میں کمی ہو جائے گی۔اور اس طرح ایسے لوگ دین کی مدد کرنے والے نہیں ہوں گے بلکہ اس میں رخنہ ڈالنے والے اور اسے ضعیف اور کمزور کرنے والے ہوں گے۔یہ تمام نقائص پیدا ہی تب ہوتے ہیں جب خدا تعالیٰ کے کلام پر یقین نہ ہو اور یہ خیال ہو کہ اس کی موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مدد نہیں آئے گی بلکہ ہم نے خود کام کرنا ہے۔یا خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق پر چلنے سے کامیابی نہیں ہوگی بلکہ کامیابی اس طریق پر چلنے سے ہوگی جو ہم نے سوچا ہے۔جس شخص نے جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا ہو اُس کیلئے ضروری ہے کہ مستیوں کو دور کر کے لوگوں کے اندر اخلاص، تقویٰ اور اُمنگ پیدا کرے۔لیکن اگر کچھ آدمی ایسے ہوں کہ جتنی اُمنگیں اور امید میں اور ی جوش خلیفہ پیدا کرے اس کا ایک حصہ وہ ضائع کر دیں، تو ایسے لوگ بجائے اسلام کی ترقی کا موجب ہونے کے اس کے تنزل کا موجب ہوں گے۔الله رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں دیکھ لوصلح حدیبیہ کی مثال بالکل واضح ہے۔رسول کریم ﷺ نے رویا میں دیکھا کہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں۔چونکہ وہ حج کا وقت نہیں تھا، آپ نے عمرہ کی نیت کی اور