خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 367

خطبات محمود ۳۶۷ سال ۱۹۳۷ء ہوں میں نے مناسب سمجھا کہ اس رپورٹ کے متعلق خطبہ میں بعض باتیں بیان کروں۔میں نے متواتر جماعت کو بتلایا ہے کہ خلافت کی بنیاد محض اور محض اس بات پر ہے کہ اَلاِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ ہے یعنی امام ایک ڈھال ہوتا ہے اور مومن اس ڈھال کے پیچھے سے لڑائی کرتا ہے۔مومن کی ساری جنگیں امام کے پیچھے کھڑے ہو کر ہوتی ہیں۔اگر ہم اس مسئلہ کو ذرا بھی بھلا دیں ، اس کی و قیود کو ڈھیلا کر دیں اور اس کی ذمہ واریوں کو نظر انداز کر دیں تو جس غرض کیلئے خلافت قائم ہے وہ مفقود ہو جائے گی۔میں جانتا ہوں انسانی فطرت کی کمزوریاں کبھی کبھی اسے اپنے جوش اور غصہ میں اپنے فرائض سے غافل کر دیتی ہیں۔پھر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ کبھی انسان ایسے اشتعال میں آجاتا ہے کہ وہ یہ کی نہیں جانتا کہ میں منہ سے کیا کہہ رہا ہوں مگر بہر حال یہ حالت اس کی کمزوری کی ہوتی ہے نیکی کی نہیں۔اور مومن کا کام یہ ہے کہ کمزوری کی حالت کو مستقل نہ ہونے دے اور جہاں تک ہو سکے اسے عارضی بنائے بلکہ بالکل دُور کر دے۔اگر ایک امام اور خلیفہ کی موجودگی میں انسان یہ سمجھے کہ ہمارے لئے کسی آزاد تدبیر اور مظاہرہ کی ضرورت ہے تو پھر خلیفہ کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔امام اور خلیفہ کی ضرورت یہی ہے کہ ہر قدم جو مومن اُٹھاتا ہے اُس کے پیچھے اُٹھاتا ہے اپنی مرضی اور خواہشات کو اس کی ہے مرضی اور خواہشات کے تابع کرتا ہے، اپنی تدبیروں کو اس کی تدبیروں کے تابع کرتا ہے ، اپنے ارادوں کو اس کے ارادوں کے تابع کرتا ہے، اپنی آرزوؤں کو اس کی آرزوؤں کے تابع کرتا ہے اور اپنے سامانوں کواس کے سامانوں کے تابع کرتا ہے۔اگر اس مقام پر مومن کھڑے ہو جا ئیں تو ان کیلئے کامیابی اور فتح یقینی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اس نکتہ کو واضح کرنے کیلئے فرماتا ہے کہ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا یعنی جو خلفاء اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کئے جاتے ہے ہیں ہمارا وعدہ یہ ہے کہ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمُ یعنی ان کے طریق کو جو ہم ان کیلئے خود چنیں گے دنیا میں قائم کریں گے۔دین کے معنی صرف مذہب کے ہی نہیں۔گو مذہب بھی اس میں شامل ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ مذہب تو انبیاء کے ذریعہ سے قائم ہوتا ہے۔خلفاء کے ذریعہ سنن اور طریقے قائم کئے جاتے ہیں ورنہ احکام تو انبیاء پر نازل ہو چکے ہوتے ہیں۔خلفاء، دین کی تشریح اور وضاحت کرتے ہیں اور مغلق امور کو کھول کر لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں اور ایسی راہیں بتاتے ہیں جن پر چل کر اسلام کی ترقی ہوتی ہے۔