خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 355

خطبات محمود ۳۵۵ سال ۱۹۳۷ء مسلمانوں کو باقی اقوام پر یہ فضیلت حاصل ہے اور جبکہ قیامت کے دن جہاں انگلی چھیلی تمام قو میں اکٹھی ہوں گی ، مسلمان شہید کے طور پر ہوں گے اور باقی قومیں مزدوروں کی طرح۔تو پہلی قوموں کی بڑائی کا جن آیات میں ذکر آتا ہے ان کے معنے یہی ہوں گے کہ ان قوموں کو صرف اپنے زمانہ میں تمام دنیا پر فضیلت حاصل تھی۔پھر ایک مقام پر اللہ تعالیٰ بہت سے انبیاء کا اکٹھا ذ کر کرتے ہوئے فرماتا ہے كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعَلَمِينَ وَمِنْ آبَاءِ هِمْ وَذُرِّيَّتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْ وَاجْتَبَيْنَهُمْ وَ هَدَيْنَهُمْ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ كه ان میں سے ہر ایک کو ہم نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔اسی طرح ان کے باپ دادوں کو فضیلت دی، ان کی ذریت کو فضیلت دی اور ان کے بھائیوں کو فضیلت دی۔اب کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک سارے جہاں پر فضیلت رکھتا تھا۔اگر باپ فضیلت رکھتے تھے تو بھائیوں کو کس طرح فضیلت حاصل ہوگئی۔اور اگر بھائی افضل تھے تو ذریت افضل کس طرح بن گئی۔یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ تین دو سے بڑا ہے لیکن یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ دو تین سے بڑا ہے۔اگر تین دو سے بڑا ہے تو دو تین سے بڑا نہیں ہوسکتا۔اور اگر دو تین سے بڑا ہے تو تین دو سے بڑا نہیں ہوسکتا۔دراصل وہاں بھی اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ ہر نبی کی جماعت کو اپنے اپنے زمانہ میں دوسرے لوگوں پر فضیلت حاصل تھی۔حضرت ابراہیم کی قوم کو اپنے زمانہ میں دوسرے لوگوں پر فضیلت حاصل تھی اور احق کی قوم کو اپنے زمانہ میں دوسرے لوگوں پر فضیلت حاصل تھی اور یعقوب کی قوم کو اپنے زمانہ میں دوسرے لوگوں پر فضیلت حاصل تھی۔اسی طرح داؤڈ اور سلیمان اور ایوب اور یوست اور موسیٰ اور ہارون اور زکریا اور کیٹی اور عیسی اور الیاس اور اسماعیل اور الیسع و غیرہ کی قوموں کو اپنے اپنے زمانہ میں دوسرے لوگوں پر فضیلت حاصل تھی۔اور پھر ان کی وجہ سے ان کے اُن باپ دادوں اور اولادوں کو بھی فضیلت حاصل ہو گئی جو انبیاء کو ماننے والی تھیں۔تو قرآن کریم کی متعدد آیات سے یہ ثابت ہے کہ جب کسی کے متعلق یہ کہا جائے کہ وہ تمام جہان سے افضل ہے تو اس کے معنے صرف یہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے زمانہ کے لوگوں پر فضیلت رکھتا ہے۔اب یہ کتنی ظالمانہ یا کتنی جاہلانہ بات ہے جو ہماری طرف منسوب کی گئی ہے۔اگر احسان نے دیدہ دانستہ یہ عقیدہ ہماری طرف منسوب کیا ہے تو اس نے ایک ظالمانہ فعل کیا اور اگر ہمارے عقائد سے واقفیت حاصل کئے بغیر اس نے ایسا نوٹ لکھا تو اس نے ایک جاہلا نہ فعل کا ارتکاب کیا۔