خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 354

خطبات محمود ۳۵۴ سال ۱۹۳۷ء وہاں یہ معنے کرنے جائز ہیں تو شرافت اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اس احمدی کے فقرہ کے بھی یہی معنے کئے جائیں کہ اس زمانہ میں جس قدر لوگ ہیں ان سب سے جماعت احمدیہ کا خلیفہ بڑا ہے اور اگر یہی معنے کئے جائیں تو اس سے ہمیں انکار نہیں بلکہ یقیناً ہم اس کے دعویدار ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى العلمین کہ میں نے تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے۔اب بتاؤ کیا اس کے یہ معنے ہیں کہ بنی اسرائیل الْعَلَمِينَ رسول کریم ﷺ کی امت سے بھی بڑے ہیں۔اللہ تعالیٰ تو امت محمدیہ کے متعلق قرآن کریم میں یہ فرما ہے کہ كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ = کہ تم دنیا کی ساری قوموں میں سے زیادہ بلند درجہ رکھنے کی والی قوم ہو اور تم خالص دنیا کے فائدہ اور نفع رسانی کیلئے پیدا کی گئی ہو۔اب ایک طرف اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو یہ فرماتا ہے کہ تم دنیا کی تمام قوموں سے اعلیٰ ہو اور دوسری طرف بنی اسرائیل کے متعلق فرماتا ہے کہ میں نے انہیں تمام جہانوں پر فضیلت دی۔حالانکہ تمام جہان پر فضیلت ایک کو ہی حاصل ہوسکتی ہے دونوں کو حاصل نہیں ہو سکتی۔پھر ان آیتوں کے تطابق کی کیا صورت ہے اور انِّی فَضَّلْتُكُمْ عَلَى العلمین کے کیا معنے ہوں گے۔کیا یہ ہوں گے کہ بنی اسرائیل کو مسلمانوں پر فضیلت حاصل ہے یا یہ کہ بنی اسرائیل کو اپنے زمانہ کے لوگوں پر فضیلت حاصل تھی۔مگر مسلمانوں کو ساری جماعتوں اور سارے زمانوں پر فضیلت حاصل ہے۔اس کا مزید ثبوت رسول کریم ﷺ کا اپنا دعوی ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں إِنِّي مُفَاخِرٌ بِكُمْ وَمُكَائِرٌ بِكُمُ ۵ کہ قیامت کے دن میں اپنی اُمت کو ساتھ لے کر باقی تمام انبیاء کی اُمتوں پر فخر کروں گا اور اس کی کثرت پر ان کے مقابلہ میں ناز کروں گا۔اب قیامت کے دن جہاں ساری اُمتیں اکٹھی ہوں گی جس قوم کو فخر حاصل ہوگا یقینا وہی قوم دنیا کی ساری قوموں سے بڑی ہوگی تو خَيْرَ أُمَّةٍ کی تشریح رسول کریم ﷺ نے خود کر دی اور اللہ تعالیٰ نے بھی ایک دوسرے مقام پر اس کی تشریح کر دی جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَ كَذلِكَ جَعَلْنَكُمْ اُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ * اور اسی طرح ہم نے تم کو سب قوموں سے اعلیٰ بنایا ہے تا کہ تم باقی سب لوگوں پر شہید کے طور پر ہو۔شہید کے معنے داروغہ کے ہوتے ہیں۔اب خود ہی سوچ لو کہ کیا داروغہ بڑا ہوتا ہے یا مزدور بڑا ہوتا ہے۔ہر شخص جانتا ہے کہ مزدور نہیں بلکہ داروغہ بڑا ہوتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا کی ساری قوموں کے مقابلہ میں تم داروغہ کے طور پر ہو اور وہ تمہارے مقابلہ میں ایسی ہی ہیں جیسے مزدور ہوتا ہے۔