خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 334

خطبات محمود ۳۳۴ سال ۱۹۳۷ء سکتے ہیں۔اسی طرح وہ یہ سوال بھی حل کریں کہ ان ممبران کمیشن کو اگر جماعت احمدیہ نے مقرر کرنا ہے تو کیا ساری جماعت کو اکٹھا ہو کر منتخب کرنا چاہئے یا الگ الگ جماعتیں ایسا انتخاب کریں۔اور اگر ی غیر احمدیوں نے بھی کوئی حصہ منتخب کرنا ہے تو ان کے انتخاب کا کیا ذریعہ ہوگا۔اور اگر آزاد کمیشن سے مراد یہ ہے کہ آدھے حج معترض تجویز کیا کریں اور آدھے خلیفہ وقت کیا کرے تو پھر سوال یہ ہے کہ اگر غیر احمدی جوں پر خلیفہ کو اعتبار نہ ہو تو کیا وہ حصہ بھی معترض ہی مقرر کر دیا کرے گا یا خلیفہ کو مجبور کیا جائے گا کہ ضرور کچھ غیر احمدیوں پر یا غیر مسلموں پر اعتبار کر کے ان میں سے حج مقرر کرو اور جب احمدیت خدا تعالیٰ کے فضل سے ترقی کر جائے گی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق دوسری اقوام اس کے ماتحت آجائیں گی تو اُس وقت غیر احمدی یا غیر مسلم بھی جانبدار نہ رہیں گے۔اُس وقت آزاد کمیشن کیلئے ممبر کہاں سے لائے جائیں گے۔آیا یہ کوشش کی جائے گی کہ کچھ حصہ دنیا کا بالکل آزاد رہے اور اسلامی حکومت میں داخل نہ ہو تا مصری صاحب کے ہم خیالوں کیلئے آزاد کمیشن کے ممبر ملتے رہیں۔اور پھر یہ بھی سوال ہے کہ اگر آزاد کمیشن یہ کہے کہ مصری صاحب جھوٹے ہیں تو ان کو کیا سزا دی جائے گی۔خلیفہ کیلئے تو یہ سزا ہوئی کہ وہ غیر احمدیوں کے کہنے پر خلافت سے معزول ہو جائے گا مگر اس کے مقابل پر مصری صاحب کیلئے کیا سزا ہوگی۔آیا ان کیلئے صرف یہ کافی ہوگا کہ ہنس کر کہیں کہ چلو تو بہ کرتے ہیں یا کوئی اور سزا بھی ہوگی۔پھر یہ بھی سوال ہے کہ اگر ان کے خلاف کمیشن فیصلہ کرے تو کیا وہ ان اس کے فیصلہ کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے آپ کو جھوٹا کہیں گے؟ یا یہ کہیں گے کہ خلیفہ ہے تو بد کا رہی مگر کمیشن کی خاطر میں اسے مان لیتا ہوں۔اگر اپنے آپ کو جھوٹا کہیں گے تو اس وقت وہ براہین کہاں جائیں گے جن کی وجہ سے خلافت سے روگردانی ان کیلئے جائز ہو گئی ہے۔اگر پھر بھی وہ اپنے آپ کو حق پر ہی سمجھتے رہیں گے اور باوجود اس کے خلیفہ کی بیعت کرلیں گے ، تو آج آپ کو بیعت توڑنے کی کیا مجبوری پیش کی آئی تھی۔یا آپ کا ارادہ یہ ہے کہ اگر فیصلہ آپ کے حق میں ہوا تو قابل قبول ہوگا اور نہ نہیں۔یہ بہت سے سوال ہیں جن کا جواب دینا آزاد کمیشن کے مطالبہ سے پہلے ضروری ہے۔اور امید ہے کہ مصری صاحب جلد ان کا جواب دے کر اپنے نقطۂ نگاہ کو واضح کر دیں گے۔بہر حال ہمیں یہ علم ہونا چاہئے کہ وہ آزاد کمیشن کسے کہتے ہیں۔اس کے فیصلہ کی پابندی ان کیلئے ضروری ہوگی یا نہیں۔اسے کون مقر ر کرے، کس طرح کرے اور کس کس کو ایسا کمیشن مقرر کرانے کا حق ہے۔