خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 333

خطبات محمود ۳۳۳ سال ۱۹۳۷ء الزام لگائے جماعت کو یہاں بلا لیا جائے اور ضمناً اس بات کا بھی وہ جواب دیں کہ ایسا کرنے پر پچاس ساٹھ ہزار بلکہ لاکھ روپیہ کا خرچ ہو گا وہ مصری صاحب دیں گے یا کون دے گا۔پھر یہ ممکن ہے کہ کل کوئی اور اُٹھے اور کہے کہ مصری صاحب نے جو الزام لگائے تھے وہ غلط تھے اب میں یہ الزام لگا تا ہوں ان کی تحقیقات کی جائے اور ادھر لوگ مصری صاحب کے کمیشن سے فارغ ہو کر گھر پہنچیں اور اُدھر پھر تاریں چلی جائیں کہ خلیفہ پر ایک اور مقدمہ ہو گیا ہے فوراً چلے آؤ۔اور پھر اس سے فارغ ہو کر جائیں تو کوئی اور ی کہہ دے کہ میں خلیفہ پر یہ الزام لگا تا ہوں اور لوگ ابھی بعض رستوں میں ہی ہوں اور بعض ابھی پہنچے ہی ہوں کہ پھر تاریں چلی جائیں کہ فوراً آ جاؤ پھر آزاد کمیشن بیٹھنے لگا ہے۔پھر یہ بھی سوال ہے کہ آیا ہر الزام پر آزاد کمیشن چاہئے۔یا آزاد کمیشن والے الزامات کی کوئی خاص نوعیت والے الزام ہی آزاد کمیشن کے حقدار ہوں گے تو اس نوعیت کا فیصلہ قرآن وحدیث کی کس سند کے ذریعہ کیا جائے گا۔وہ یہ بھی بتائیں کہ آزاد کمیشن کا مطالبہ کرنے کا حق ان کو اگر حاصل ہے تو صرف اس دفعہ ہی یا جب وہ چاہیں جماعت سے اس کا مطالبہ کر لیں۔اور اگر دوسروں کو بھی اس کا حق حاصل ہے تو انہیں بھی ایک ایک دفعہ عمر بھر میں یا جب اور جس وقت کوئی شخص آزاد کمیشن کا مطالبہ کرے فوراً آزاد کمیشن بیٹھ جانی چاہئے۔اور یہ آزاد کمیشن جماعت کے اندر رہنے والے لوگ مانگ سکتے ہیں یا جماعت سے باہر کے لوگ بھی اس کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔مثلاً پیغامی اور غیر احمدی اس بارہ میں مطالبہ کریں تو آیا ان کا یہ مطالبہ جائز سمجھا جائے گا یا نا جائز ؟ اگر جماعت سے باہر کے لوگوں کا یہ مطالبہ درست تسلیم نہ کیا جائے تو پھر مصری صاحب جو جماعت سے نکل چکے ہیں ان کو ایسا مطالبہ کرنے کا حق کہاں سے حاصل ہوا ہے اور اگر یہ قانون ہے کہ جو جماعت سے قریب زمانہ میں نکلا ہو ، وہ آزاد کمیشن کا مطالبہ کر سکتا ہے دوسرا نہیں۔تو پھر وہ یہ بھی بتائیں کہ کتنی د تک کا مرتد اس قسم کا مطالبہ کر سکتا ہے۔پھر وہ یہ بھی بتائیں کہ آزاد کمیشن سے مراد غیر احمد یوں کا کمیشن ہے یا احمدیوں کا یا مشترک؟ اگر مشترک مراد ہے تو کس کس نسبت سے احمدی اور غیر احمدی ممبر مقرر کئے جائیں گے اور انہیں کون مقرر کرے گا۔اگر خلیفہ مقرر کرے گا تو پھر وہ بقول مصری صاحب آزاد نہ رہے گا اور اگر احمدی مقرر کریں گے تو پھر بھی آزاد کمیشن نہ رہے گا کیونکہ وہ تو پہلے ہی خلیفہ کو حق پر سمجھ رہے ہیں ور نہ مصری صاحب کے ساتھ ہی بیعت توڑ کر الگ ہو جاتے اور اگر وہ کہیں کہ نہیں احمدی بہ حیثیت حججی مقرر کرنے والے کے دیانتدار ہیں تو پھر غیر احمدی کمیشن کی کیا ضرورت رہی۔پھر احمدی حج ہی کمیشن بن