خطبات محمود (جلد 18) — Page 304
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء میں ضمناً اس جگہ یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ اُس زمانہ میں بیعت کا مفہوم کیا سمجھا جایا کرتا تھا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب لوگوں سے بیعت لی تو اُس کے الفاظ یہ تھے عَلَیک عهد الله و ميثاقه بالوفاء لتكونن لسلمنا سلما و لحربنا حربا و لتكفن عنا لسانک ویدک ١٠ کہ تم خدا اور کی قسم کھا کر مجھ سے یہ عہد کرتے ہو کہ تم ہمیشہ میرے مطیع وفرمانبردار رہو گے۔جس سے میں صلح کروں اس سے تم بھی صلح کرو گے اور جس سے میں جنگ کروں گا اُس سے تم بھی جنگ کرو گے اور تم نہ اپنی زبان کی سے مجھ پر کوئی اعتراض کرو گے اور نہ اپنے اعمال سے میرے لئے کسی تکلیف کا باعث بنو گے۔گویا بیعت کی یہ اہم شرط تھی کہ ولتکفن عنا لسانک ویدک۔اپنی زبانوں اور اپنے ہاتھوں کو روکے رکھنا ہے اور مجھ پر کسی قسم کا اعتراض نہیں کرنا۔یہ عہد تھا جو صحابہ بیعت کا سمجھتے تھے مگر مصری صاحب کہتے ہیں کہ میں برا بر دو سال تک آپ کے خلاف مصالحہ جمع کرتا رہا اور ابھی ان کے نزدیک وہ میری بیعت میں ہی شامل تھے۔پس جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے کیا قصور کیا ، ہم نے صرف اعتراض ہی کیا تھا اور اعتراض کرنے میں آزادی ہونی چاہئے۔انہیں غور کرنا چاہئے کہ اگر خلفاء پر اعتراضات کرنے میں اسلام آزادی سکھاتا ہے تو ولتکفن عنا لسانک و یدک کا کیا مفہوم ہے۔اس میں تو صاف طور پر حضرت علیؓ نے لوگوں سے کہ دیا تھا کہ تم اپنی زبانوں کو روکے رکھنا اور کبھی مجھ پر اعتراض نہ کرنا۔اسی طرح اپنے ہاتھوں کو ہمیشہ بند رکھنا اور کوئی ایسی حرکت نہ کرنا جو میرے لئے دُکھ اور اذیت کا موجب ہو۔پھر روایتوں سے یہ بھی ثابت ہے کم سے کم حضرت طلحہ کی نسبت کہ انہوں نے وفات سے پہلے دوبارہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی تھی اور حضرت زبیر نے بھی رسول کریم ﷺ کی ایک پیشگوئی سُن کر حضرت علی کا مقابلہ کرنے سے اعراض کر لیا تھا۔چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ حضرت زبیر جب کی جنگ کیلئے حضرت علیؓ کے سامنے نکلے تو اُس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت زبیر سے کہا ز بیر ! تم کو وہ دن بھی یاد ہے جب رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ایک دن میں اور تم اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں رسول کریم ﷺ تشریف لائے اور آپ نے مجھے اور تمہیں اکٹھے بیٹھے دیکھ کر میری طرف مخاطب ہو کر فرمایا اے علی ! وہ بھی کیا دن ہوگا جب یہ تیرے چا کا بیٹا ز بیر تجھ سے ایسی حالت میں لڑائی کرے گا جبکہ یہ ظالم ہوگا اور تو مظلوم ہوگا۔یہ سُن کر حضرت زبیرا اپنے لشکر کی طرف واپس کوٹے اور انہوں نے قسم کھائی کہ وہ حضرت علیؓ سے ہر گز جنگ نہیں کریں گے اور اقرار کر لیا کہ انہوں نے اپنے اجتہاد میں غلطی