خطبات محمود (جلد 18) — Page 305
خطبات محمود ۳۰۵ سال ۱۹۳۷ء صلى الله کی لالیکن لطیفہ یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ حضرت زبیر کو حضرت علی کے مقابلہ میں ظالم قرار دیتے ہیں اور مصری صاحب کہتے ہیں اگر میں نے بیعت توڑ دی ہے تو کیا حرج ہوا زبیر نے بھی تو بیعت توڑی تھی اور حضرت علی کا مقابلہ کیا تھا۔گویا وہ اپنے منہ سے یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ظالم ہیں۔کیونکہ وہ اپنے آپ کی کو حضرت زبیر سے نسبت دیتے ہیں اور حضرت زبیر کو رسول کریم ﷺ نے ظالم قرار دیا تھا۔اب کیا ظالم ہونا ان کے خیال میں کوئی گناہ نہیں صرف غیر احمدی ہونا ہی گناہ ہے۔یہ مانا کہ حضرت زبیر نے حضرت علی کی بیعت عملا تو ڑ دی تھی مگر ساتھ ہی یہ بھی تو حدیث ہے کہ اے زبیرا تو علی سے ایسی حالت میں مقابلہ کرے گا جبکہ تو ظالم ہوگا۔پس جب وہ حضرت زبیر سے اپنی نسبت دیتے ہیں تو کیا وہ اس کی حدیث کے ماتحت ظالم قرار نہیں پاتے؟ اور کیا ظالم ہونا ان کے نزدیک کم گناہ ہے کہ وہ اسے معمولی بات سمجھتے ہیں۔پس حضرت زبیر تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی سُن کر جنگ سے الگ ہو گئے اور اچانک حملہ کے وقت چونکہ وہ زخمی ہو گئے تھے بعد میں فوت ہو گئے۔باقی رہے حضرت طلحہ ان کی کی نسبت روایات میں آتا ہے کہ حضرت طلحہ بھی میدانِ جنگ کو چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ان کے پیچھے ایک شخص گیا اور ان پر غفلت میں حملہ کر کے انہیں زخمی کر دیا۔اس کے بعد ان کے پاس سے ایک شخص گزرا اور آپ نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے کر کہا کہ تیرا ہاتھ علی کا ہاتھ ہے اور میں تیرے ہاتھ پر علی کی دوبارہ بیعت کرتا ہوں۔اب گجا حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کی حالت اور گجا مصری صاحب کی حالت۔کیا ان دونوں میں کوئی بھی نسبت ہے ؟ اور کیا ان کا حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیر کی مثال پیش کرنا کسی لحاظ سے بھی درست ہوسکتا ہے؟ مصری صاحب دریافت کرتے ہیں کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے جب بیعت کو فخ کر لیا تھا تو کوئی ہے جو جرات کر کے انہیں اسلام سے خارج قرار دے۔اور میں انہیں کہتا ہوں کہ ہم اگر انہیں اسلام سے خارج قرار نہیں دیتے تو آپ کو بھی بیعت سے الگ ہو جانے کی وجہ سے احمدیت سے کب خارج قرار دیتے ہیں۔اگر آپ ایک بھی میری ایسی تحریر دکھا دیں جس میں میں نے آپ کو غیر احمدی قرار دیا ہو تب تو سمجھ لیا جائے گا کہ آپ سچ بولتے ہیں۔لیکن اگر کوئی تحریر نہ دکھا سکیں تو کیا اس سے صاف طور پر یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ آپ نے دیدہ دانستہ غلط بیانی کی ہے۔میری جس قدر تحریریں ہیں وہ ای چھپ چکی ہیں، میری تقاریر بھی محفوظ ہیں اور شائع ہو چکی ہیں پس اگر ان میں شرافت کا ایک ذرہ بھی باقی ہی