خطبات محمود (جلد 18) — Page 300
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء نے اس سے دھوکا کیا ہے۔اس پر جنگ شروع ہوگئی اور دونوں فریق کے سرداروں کو میدان میں نکلنا پڑا۔یہ دیکھ کر بعض صحابہ اور روسا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور اُن سے کہا کہ اے عائشہ ؟ آپ کے سوا آج اسلامی لشکر میں کوئی صلح نہیں کر اسکتا۔آپ تشریف لائیں اور صلح کرا ئیں۔چنانچہ وہ صلح کی کیلئے باہر نکلیں۔یہ دیکھ کر اُن شریروں اور فتنہ پردازوں نے جو یہ چاہتے تھے کہ صلح نہ ہو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ اور ہودج پر تیر مارنے شروع کر دیئے۔اس پر وہ لوگ جو رسول کریم ﷺ کی محبت میں سرشار تھے، آپے سے باہر ہو گئے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ کے اردگرد حلقہ باندھ لیا اور ان لوگوں کا مقابلہ کرنا شروع کر دیا جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر تیر چلا رہے تھے۔یہ دیکھ کر ایک شخص ان لوگوں میں سے ایک شخص کے پاس گیا جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ کے ارد گر د حلقہ باندھے ہوئے تھا اور کہا کہ کیا تو مسلمانوں کے اوپر تیر چلائے گا ؟ وہ کہنے لگا خدا کی گواہ ہے میں مسلمانوں کے اوپر تیر نہیں چلانا چاہتا مگر میں اپنے آقا کی بیوی کو بھی یونہی نہیں چھوڑ سکتا۔پس شرارتیوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر تیر چلائے اور بعض صحابہ نے دفاع کے طور پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے دشمنوں کا مقابلہ کیا۔ورنہ تاریخی طور پر یہ ثابت ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے لڑائی کیلئے نہیں نکلی تھیں بلکہ آپس میں صلح کرانے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مقابلہ کرنے والے لشکر کو سمجھانے کیلئے نکلی تھیں اور ان کا وہی فعل بیعت تھا۔باقی رہا یہ کہنا کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہؓ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لینے کے بعد بیعت کو فتح کر لیا۔مگر کوئی ہے جو جرات کر کے انہیں اسلام سے خارج قرار دے۔میں اس کے متعلق بتا چکا ہوں کہ ہم نہ انہیں غیر مسلم کہتے ہیں اور نہ مصری صاحب کو غیر احمدی کہتے ہیں۔ہاں اس سے یہ معلوم ضرور ہوتا ہے کہ انہیں غیر احمدی کہلانے کا شوق ہے اور شاید یہ پیش خیمہ ہے ان کے غیر احمدی بننے کا۔چنانچہ کچھ تعجب نہیں کہ وہ تھوڑے دنوں کے بعد ہی یہ کہنے لگ جائیں کہ چلو جب جماعت مجھے غیر احمدی سمجھتی ہے تو میں غیر احمدی ہی ہو جاتا ہوں۔ورنہ ہم نے تو آج تک ایک دفعہ بھی انہیں غیر احمدی نہیں کہا۔یا درکھنا چاہئے کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے متعلق جو یہ کہا گیا ہے کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کو توڑا، یہ ایک غلط مثال اور تاریخ سے ان کی ناواقفیت کا ثبوت ہے۔تاریخیں اس