خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 301

خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء بات پر متفقہ طور پر شاہد ہیں کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جو بیعت کی تھی وہ ان بیعت طوعی نہیں تھی بلکہ جبراً اُن سے بیعت لی گئی تھی۔چنانچہ محمد اور طلحہ دو راویوں سے طبری میں روایت آتی ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جب شہید ہو گئے تو لوگوں نے آپس میں مشورہ کر کے فیصلہ کیا کہ جلد کسی کو خلیفہ مقرر کیا جائے تا امن قائم ہو اور فساد مٹے۔آخر لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے عرض کیا کہ آپ ہماری بیعت لیں۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا اگر تم نے میری بیعت کرنی ہے تو تمہیں ہمیشہ میری فرمانبرداری کرنی پڑے گی اگر یہ بات تمہیں منظور ہے تو میں تمہاری بیعت لینے کیلئے تیار ہوں ورنہ کسی اور کو اپنا خلیفہ مقرر کرلو، میں اس کا ہمیشہ فرمانبردار رہوں گا اور تم سے زیادہ اُس کی اطاعت کروں گا۔انہوں نے کہا ہمیں آپ کی اطاعت منظور ہے۔آپ نے فرمایا پھر سوچ لو اور آپس میں مشورہ کر لو۔چنانچہ انہوں نے مشورہ سے یہ طے کیا کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لیں تو سب لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلیں گے ورنہ جب تک وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کریں گے ، اُس وقت تک پورے طور پر امن قائم نہیں ہوگا۔اس پر حکیم بن جبلہ کو چند آدمیوں کے ساتھ حضرت زبیر کی طرف اور مالک اشتر کو چند آدمیوں کے ساتھ حضرت طلحہ کی طرف روانہ کیا گیا۔جنہوں نے تلواروں کا نشانہ کر کے انہیں بیعت پر آمادہ کیا یعنی وہ ای تلوار میں سونت کر ان کے سامنے کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ حضرت علی کی بیعت کرنی ہے تو کرو ور نہ ابھی ہم تم کو مارڈالیں گے۔چنانچہ انہوں نے مجبور ہو کر رضامندی کا اظہار کر دیا اور یہ واپس آگئے کے دوسرے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے اور فرمایا اے لوگو! تم نے کل مجھے ایک پیغام دیا تھا اور میں نے کہا تھا کہ تم اس پر غور کر لو۔کیا تم نے غور کر لیا ہے اور کیا تم میری کل والی بات پر قائم ہو؟ اگر قائم ہو تو یاد رکھو تمہیں میری کامل فرمانبرداری کرنی پڑے گی۔اس پر وہ پھر حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے پاس گئے اور اُن کو زبردستی کھینچ کر لائے۔روایت میں صاف لکھا ہے کہ جب وہ حضرت طلحہ کے پاس پہنچے اور ان سے بیعت کیلئے کہا تو انہوں نے جواب دیا اِنّى إِنَّمَا ابَايِعُ كَرْهًا ل دیکھو میں ز بر دستی بیعت کر رہا ہوں خوشی سے بیعت نہیں کر رہا۔اسی طرح حضرت زبیر کے پاس جب وہ لوگ گئے بیعت کیلئے کہا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ اِنّى إِنَّمَا ابَايِعُ كَرْهًا تم مجھ کو مجبور کر کے بیعت کروا رہے ہو دل سے میں یہ بیعت نہیں کر رہا۔اسی طرح عبد الرحمن بن جندب اپنے باپ سے روایت